غلہ کی قیمت میں کمی کر کے رعایت کو زکوۃ میں شمار کرنے کا حکم؟

غلہ کی قیمت میں کمی کر کے رعایت کو زکوۃ میں شمار کرنے کا حکم؟

:سوال
گندم چھ 6 روپیہ کے بھاؤ سے ایک من خرید کر چار 4 روپیہ کے بھاؤ سے مسلمان غریب لوگوں کو دے دینا اور جو 2 روپیہ کا نقصان ہوا اسے زکوۃ دینے میں شمار کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
:جواب
زکوۃ اس طرح ادا نہیں ہو سکتی
فان البيع بیائن الصدقة والمحاباة ليست في القدر الزائد المتروك من التمليك في شتى فانك لم تملكه حتى تملکہ ۔
ترجمہ: کیونکہ بیع، صدقہ کی متضاد ہے، رعایت کرنا سودے سے زائد کسی چیز کی تملیک نہیں ہے کیونکہ رعایت تیری ملکیت نہیں ، کہ تو کسی کو مالک بنائے۔
بلکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ چھ 6 ہی روپے من اُن کے ہاتھ بیچیں اور فی من دو 2روپے اُن کو زکوۃ میں اپنے پاس سے دیں اور قیمت میں چھ 6 روپے اُن سے وصول کریں ، اُن کے دو روپے زکوۃ میں محسوب شمار ہوں گے اور اُن کو من بھر گیہوں پر چار4 روپے اپنے پاس سے دینے پڑے۔
مزید پڑھیں:زکوۃ کی رقم سے محتاجوں کو کھانا کھلایا یا کپڑے دیئے تو زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں؟
READ MORE  فجر کی نماز کا مستحب وقت کون سا ہے اور جس جگہ افق صاف نظر آتا ہو وہاں طلوع کی کیا پہچان ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top