فدیہ دیتے وقت یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ فلاں کے روزے کا فدیہ ہے یا نیت کافی ہے؟

فدیہ دیتے وقت یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ فلاں کے روزے کا فدیہ ہے یا نیت کافی ہے؟

:سوال
فدیہ دیتے وقت یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ فلاں کے روزے کا فدیہ ہے یا نیت کافی ہے؟
:جواب
دینے والے کی نیت کافی ہے لفظ کی حاجت نہیں۔ مگر زبان سے بھی کہ دینے کو علماء مناسب بتاتے ہیں یہاں تک کہ طریقہ ادا میں میت کے باپ دادا تک کا نام لینا فرماتے ہیں کہ مسکین سے کہا جائے یہ مال تجھے فلاں بن فلاں کے اتنے روزوں یا اتنی نمازوں کے فدیہ میں دیا ، وہ کہے میں نے قبول کیا۔ پُر ظاہر کہ یہ سب اولویتیں ہیں جن پر تو قف ادا نہیں۔
مزید پڑھیں:اگر کسی فقیر کے ذمہ قرض ہو اور وہ فدیہ پانے کا مستحق ہوتو کیا فدیہ میں اسے معاف کر سکتے ہیں؟
READ MORE  بے نمازی کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے ؟اگر علماء اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں تو کیا حکم ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top