چاند کی رویت احناف کے نزدیک کن کن ذرائع سے ثابت ہو سکتی ہے؟

چاند کی رویت احناف کے نزدیک کن کن ذرائع سے ثابت ہو سکتی ہے؟

سوال
جہاں چاند 29 کو نظر نہ آئے ، وہاں چاند کی رویت امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کن کن ذرائع سے ثابت ہو سکتی ہے؟
جواب
ثبوت ہلال کے لیے ضرور ہے کہ یا تو رؤیت پر عینی شہادت ہو یا عینی شاہدوں نے جن شاہدوں کو حسب شرائط شرعیہ اپنی شہادت کا حامل کیا ہو ان کی شہادت شہادت پر ہو یا حاکم شرعی کے حکم شرعی پر شہادت بر وجہ شرعی ہو یا شرائط معتبرہ فقہیہ کے ساتھ کتاب القاضی الی القاضی ہو یا جس شہر میں قاضی شرع ہو
اور اس کے حکم سے وہاں روزہ وعید ہوا کرتے ہیں، وہاں سے لوگ گروہ کے گروہ آئیں اور بالا تفاق اس حاکم شرع کا حکم بیان کریں، اور ان میں سے کچھ نہ ہو تو اخیر درجہ میں 30 کی گنتی پوری کرنا ہے یعنی جب اگلے مہینہ کی رؤیت ہولی یا کافی ثبوت شرعی سے ثابت ہوئی اور اس مہینے 29 کو رویت نہ ہوئی تو تمہیں دن پورے ہو کر ہلال خواہی نخواہی ہوگا کہ شرعی مہینہ میں 30 سے زائد نہیں ہو سکتا ۔
مزید پڑھیں:ایک جگہ سے چاند کی شہادت کی خبر دوسری جگہ پہنچ جائے تو اس پو عمل کرنے کا کیا حکم ہے؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 738

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top