ایک جگہ سے چاند کی شہادت کی خبر دوسری جگہ پہنچ جائے تو اس پو عمل کرنے کا کیا حکم ہے؟

ایک جگہ سے چاند کی شہادت کی خبر دوسری جگہ پہنچ جائے تو اس پو عمل کرنے کا کیا حکم ہے؟

سوال
جناب والا کا ایک مختصر سا پرچہ جس پر جناب کی مہر لگی ہوتی ہے اور ایک سطر میں یہ عبارت مرقوم ہے ( میرے سامنے شہادتیں گزرگئیں کل جمعہ کو عید ہے ) خاکسار کو موصول ہوا اس کے متعلق فتوی شرعی دریافت طلب ہے کہ جس جگہ یہ پر چہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو جمعہ کوعید کرنا تھی یا نہیں؟ اور روزے توڑ دینا ضرور تھے یا نہیں؟ اور اس کی عام تشہیر اور دیگر بلاد میں اشاعت سے کیا مفاد تھا؟
جواب
وہ پرچے دیگر بلاد میں نہ بھیجے گئے تقسیم کرنے والوں نے اسٹیشن پر بھی دئے ، ان میں سے کوئی لے گیا ہو گا بعض لوگوں نے پیلی بھیت کے واسطے چاہ اور ان کو جواب دے دیا گیا کہ جب تک دو شاہد عادل لے کر نہ جائیں پرچہ کافی نہ ہوگا اور بلا د بعیدہ کو کیونکر بھیجے جاتے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مزید پڑھیں:ٹیلیفون پر رمضان یا عید کے چاند دیکھنے کی خبر رو برو دینا اور اس پر عمل کا کیا حکم ہے؟
READ MORE  غروب سے کتنی دیر بعد مغرب کی اذان کہی جائے اور افطار کیا جائے؟ مغرب کی اذان اور جماعت میں کتنا فاصلہ ہونا چاہئیے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top