چاند کے ثبوت کا غلط طریقے جولوگوں میں رائج ہیں وہ کون سے ہیں؟

چاند کے ثبوت کا غلط طریقے جولوگوں میں رائج ہیں وہ کون سے ہیں؟

:سوال
چاند کے ثبوت کا غلط طریقے جولوگوں میں رائج ہیں وہ کون سے ہیں؟
:جواب
: ان ( مذکورہ بالا) کے سوا جس قدر طرق لوگوں نے ایجاد کئے محض باطل و مخذول و نا قابل قبول ہیں، خیالات عوام کا حصہ کیا ہو مگر آج کل جہال میں غلط طریقے جو زیادہ رائج ہیں وہ بھی سات ہیں
:حکایت رؤیت
یعنی کچھ لوگ کہیں سے آئے اور خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند دیکھا گیا وہاں کے حساب سے آج تاریخ یہ ہے ظاہر ہے کہ یہ نہ شہادت رؤیت ہے کہ انہوں نے خود نہ دیکھا، نہ شہادت علی الشہادت کہ دیکھنے والے ان کے سامنے گواہی دیتے اور انہیں اپنی گواہیوں کا حامل بناتے اور یہ حسب قواعد شرعیہ یہاں شہادت دیتے بلکہ مجرد حکایت جس کا شرع میں اصلا اعتبار نہیں اگر چہ یہ لوگ بھی ثقہ محمد ہوں اور جن کا دیکھنا بیان کریں و ہ بھی ثقہ مستند ہوں نہ کہ جہال ، جہاں میں تو یہ رائج ہے کہ کوئی آئے، کیسا ہی آئے ، کسی کے دیکھنے کی خبر لائے اگر چہ خود اس کا نام بھی نہ بتائے بلکہ سرے سے اُس سے واقف ہی نہ ہو، ایسی مہمل خبروں پر اعتماد کر لیتے ہیں۔
:افواہ
شہر میں خبر اڑ جاتی ہے کہ فلاں جگہ چاند ہوا، جاہل اسے تو اتر و استفاضہ (شہرت) سمجھ لیتے ہیں حالانکہ جس سے پوچھئے سنی ہوئی کہتا ہے، ٹھیک پتا کوئی نہیں دیتا ، یا منتہائے سند صرف دو ایک شخص ہوتے ہیں اسے استفاضہ سمجھ لینا محض جہالت ہے، اُس کی صورتیں وہ ہیں جو ہم نے طریق پنجم میں ذکر کیں۔
فقیر کو بارہا تجربہ ہوا کہ ایسی شہر میں محض بے سروپا نکلتی ہیں ، اس ذی الحجہ میں خبر شائع ہوئی کہ ” آنولے میں چاند ہوا ہے، وہاں عام لوگوں نے دیکھا اور فقیر کے ایک دوست کا خاص نام بھی لیا گیا، وہ آئے اور خود اپنی رؤیت اور وہاں سب کا دیکھنا بیان کرتے تھے، فقیر نے اُن کے پاس ایک معتمد کو بھیجا وہاں سے جواب ملا کہ یہاں ابر غلیظ تھانہ میں نے دیکھا نہ کسی اور نے دیکھا۔
پھر خبر اڑی کہ شاہجہان پور میں تو ایک ایک شخص نے دیکھا، فقیر نے وہاں بھی ایک معتمد ثقہ کو اپنے ایک دوست عالم کے پاس بھیجا انہوں نے فرمایا اس کا حال میں آپ کو مشاہدہ کرائے دیتا ہوں، اُن کا ہاتھ پکڑ کر شہر میں گشت کیا، دروازہ دروازہ دریافت کرتے پھرتے عید کب ہے، کہا جمعہ کی ، کہا کیا چاند دیکھا، کہا کہ دیکھا تو نہیں، کہا پھر کیوں؟ اس کا جواب کچھ نہ تھا، شہر بھر سے یہی جواب ملا، صرف ایک شخص نے کہا میں نے منگل کو چاند دیکھا تھا اور میرے ساتھ فلاں فلاں صاحب نے بھی ۔ اب یہ عالم مع ان معتمد کے دوسرے صاحب کے پاس گئے اُن سے دریافت کیا ، کہا وہ غلط کہتا تھا اور خود ان دونوں صاحبوں کے ساتھ ان گواہ صاحب کے پاس آئے ، اب یہ بھی پلٹ گئے کہ ہاں کچھ یاد نہیں۔
پھر خبر گرم ہوئی کہ رامپور میں چاند دیکھا گیا اور جمعہ کی عید قرار پائی، فقیر نے دو ثقہ شخصوں کو وہاں کے دو علمائے کرام اپنے احباب کے اپس بھیجا معلوم ہو وہاں بھی ابر تھا کس نے بھی نہ دیکھا، اتنا معلوم ہوا کہ وہاں د شخص دہلی سے دیکھ کر آئے ہیں ان علماء نے ان دو شاہدوں کو بلا کر ان دو ثقات کے سامنے شہادت دلوائی اور جو الفاظ فقیر نے انہیں لکھوائے تھے ، ان سے کہلوا کران کو تحمیل شہادت کرائی اور دونوں عالم صاحبوں نے خود ان دونوں شہود اصل کا تزکیہ کیا، ان دونوں فرع نے یہاں آکر شہادت علی الشہادت حسب قاعدہ شرعیہ دی، اُس وقت فقیر نے عید کا فتوی دیا، دیکھئے افواہ اخبار کی یہ حالت ہوتی ہے، ولا حول و لا قوة الا بالله العلى العظيم
:خطوط و اخبار
بڑی دوڑ یہ ہوتی ہے کہ فلاں جگہ سے خط آیا، فلاں اخبار میں یہ لکھا پایا، حالانکہ ہم طریق چہارم میں بیان کر چکے کہ حاکم شرع کا خاص مہری و تخطی خط جس پر خود اس کی اور محکمہ دار القضا کی مہر لگی اور اُس کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا اور یہاں بھی حاکم شرع کے نام آئے ، ہرگز بغیر دو شاہدوں عادل کے جنہیں لکھ کر اپنی کتاب کا گواہ بنا کر خط سپر د کیا اور یہاں اُنہوں نے حاکم شرع کو دے کر شہادت ادا کی ہو، مقبول نہیں، پھر یہ ڈاک کے پرچے کیا قابل التفات ہو سکتے ہیں، اور اخباری کہیں تو اصلا نام لینے کے بھی قابل نہیں۔
: تار
یہ خط سے بھی زیادہ بے اعتبار ، خط میں کاتب کے ہاتھ کی علامت تو ہوتی ہے، یہاں اس قدر بھی نہیں، تو اس پر عمل کو کون کہے گا مگرا جہل سا اجہل جسے علم کے نام سے بھی مس نہیں فقیر نے اس کے رد میں ایک مفصل فتوی لکھا اور مجھے اللہ تعالی اس پر ہندوستان کے بکثرت علماء نے مہر میں کیں کلکتے میں چھپ کر شائع ہوا تھا۔
گنگوہی ملا نے اپنے ایک فتوی میں تار کی خبر اسباب میں معتبر ٹھہرائی اور اسے تحریر خط پر قیاس کیا تھا کہ تار کی خبر مثل تحریر خط کے ہے کیونکہ تحریر میں حروف اصطلاحی ہیں جس سے مطلب معلوم ہو جاتا ہے خواہ بحرکت قلم پیدا ہوں خواہ کسی لاٹھی یا بانس طویل کی حرکت سے ، بہر حال خبر تار کی مثل ہے اور معتبر ہے، یعنی خط میں قلم سے لکھتے ہیں تار دینا ایسا ہے کہ کسی بڑے بانس سے جو ہزاروں کوس تک لمبا ہے لکھ دیا تو جیسے وہ معتبر ہے ویسے ہی یہ، بلکہ یہ تو زیادہ معتبر ہونا چاہئے کہ وہاں چھوٹا سا قلم ہے اور یہاں اتنا بڑا بانس ، تو اعتبار بھی اسی نسبت پر بڑھنا چاہئے ، شملہ بہ مقدار قلم، قیاس تو اچھا دوڑا تھا مگر افسوس کہ شرعاً محض مردو دو نا کام رہا۔
اولا خط و تار میں جو فرق ہیں ہم نے اپنے فتوی مفصلہ میں ذکر کئے جو اس قیاس کو از بیخ برکندہ کرتے اور ان سے قطع نظر بھی کیجئے تو بحکم شرع خط ہی پر عمل حرام ، پھر اس بانس کے قیاس کا کیا کام، حکم مقیس علیہ میں باطل ہے تو مقیس آپ ہی عاری و عاطل ہے۔
مولوی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوی میں خط و ار کو بے اعتبار ی ٹھہرایا اور اس حکم میں حق کی موافقت کی مگر یہ کہنا ہرگز صحیح نہیں کہ خبر تار یا خط بدرجہ کثرت پہنچ جائے تو اس پر عمل ہو سکتا ہے، اسے استفاضہ میں داخل سمجھنا صریح غلط ، استفاضے کے معنے جو علماء نے بیان فرمائے تھے وہ تھے کہ طریق پنجم میں مذکور ہوئے، متعدد جماعتوں کا آنا اور ایک زبان بیان کرنا چاہئے، یہاں اگر متعدد جگہ سے خط یا تار آئے بھی تو اولاً وہ ان وجود نا جوازی سے جنہیں ہم نے اس فتوی میں مفصلاً ذکر کیا ہر گز بیان مقبول کے سلسلے میں نہیں آسکتے ، ڈاک کے منشی ، تار کے بابو، چھٹی رساں اکثر کفار یا عموماً مجابیل یا فساق فجار ہوتے ہیں
اور بفرض باطل آئیں بھی تو یہ تعد دمنجر نہ میں ہوا نہ کہ مجرین میں کہ یہاں تار لینے والے با بواگر مسلمان ثقہ ہوں بھی تو ہرگز اتنی جماعات متعددہ نہ ہوں گی جن کی اخبار پر یقین شرعی حاصل ہو بلکہ عامہ بلا د میں صرف دو ایک ہی تار گھر ہوتے اور صد ڈاک خانہ تو ایک ہی ہوتا ہے اگر چہ بڑے شہر میں تقسیم کے لیے دو چار برانچ اور بھی ہوں ، بہر حال یہ خط یا تا ہم کو تو محدودی شخصوں کے ذریعہ سے ملیں گے پھر استفاضے سے کیا علاقہ ہوا، کیا اگر زیدآ کر کہہ دے کہ فلاں جگہ لاکھ آدمیوں نے چاند دیکھا تو یہ خبر مستفیض کہلائے گئے ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم
:جنتریوں کا بیان
کہ فلاں دن پہلی ہے، اول بعض علمائے شافعیہ و بعض معتزلہ و غیر ہم کا خیال اس طرف گیا تھا کہ مسلمان عادل منجموں کا قول اس بارے میں معتبر ہو سکتا ہے اور بعض نے قید لگائی تھی کہ جب اُن کی ایک جماعت کثیر یک زبان کرے کہ فلاں مہینے کی کم فلاں روز ہے تو مقبول ہونے کے قابل ہے اگر چہ واجب العمل کسی کے نزدیک نہیں، مگر ہمارے ائمہ کرام اور جمہور محققین اعلام اسے اصلاً تسلیم نہیں فرمانے اور اس پر عمل جائز ہی نہیں رکھتے اور یہی حق ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم صحیح حدیث میں یہاں قول جمین سے قطع نظر و عدم لحاظ کی تصریح فرما چکے، پھر اب اُس پر عمل کا کیا حل ۔
جب منجمین مسلمین ثقات عدول کے بیان کا یہ حال تو آجکل کی جنتریوں جو عموما ہنود وغیر ہم کفار شائع کرتے ہیں یا بعض نیچری نام کے مسلمان یا بعض مسلمان بھی تو وہ بھی انہی ہندوانی جنتریوں کی پیروی سے کیا قابل التفات ہو سکتی ہیں ؟ فقیر نے ہیں برس سے بڑی بڑی نامی جنتریاں دیکھیں، اول مصرانی ہیئت ہی ناقص ومختل ہے پھر ان جنتری سازوں کو اس کی بھی پوری تمیز نہیں، تقویات کو اکب میں وہ وہ سخت فاحش غلطیاں دیکھنے میں آئیں جن میں کوئی سمجھ دار بچہ بھی نہ پڑتا ۔ پھر یہ کیا اور ان کی جنتری کیا۔
: قیاسات و قرائن
مثلا چاند بڑا تھا روشن تھا دیر تک رہا تو ضرور کل کا تھا، آج بیٹھ کر نکلا تو ضرور پندرھویں ہے، اٹھائیسویں کو نظر آیا تھا مہینہ میں کا ہوگا، اٹھائیسویں کو بہت دیکھا نظر نہ آیا مہینہ انتیس کا ہوگا۔ یہ قیاسات تو حسابات کی بھی قعت بھی نہیں رکھتے ، پھر ان پر عمل جہل و زلل ۔ حدیث میں ہے حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
(من اقتراب الساعة انتفاء الاهلة)
ترجمہ: قرب قیامت کی علامات سے ہے کہ ہلال پھولے ہوتے نکلیں گے۔یعنی دیکھنے میں بڑےمعلوم ہوں گے۔
دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں
( من اقتراب الساعة ان يرى الهلال قبلا ويقال هو لليلتين)
ترجمه: علامات قیامت سے ہے کہ چاند بے تکلف نظر آئے گا ، کہا جائے گا یہ دورات کا ہے۔
(كنز العمال بحوالہ طبرانی اوسط ، ج 14 ص 220 مؤسسة الرسالة ، بیروت)
:کچھ استقرائی کچھ اخترائی قاعدے
مثلا رجب کی چوتھی رمضان کی پہلی ہوگی ، رمضان کی پہلی ذی الحجہ کی دسویں ہوگی، اگلے رمضان کی پانچویں اس رمضان کی پہلی ہوگی، چار مہینے برابر میں کے ہو چکے ہیں یہ ضرورتیس کا ہوگا، ان کا جواب اسی قدر ہے
( ما انزل الله بها سلطان )
ترجمہ: حق سبحانہ نے ان باتوں پر کوئی دلیل نہ اتاری۔
مزید پڑھیں:رویت ہلال ( چاند دیکھنے ) کا شریعت میں کس طرح ثبوت ہوتا ہے؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 503

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top