آذان میں حضورﷺ کے نام پر درود پڑھنے کا طریقہ
سوال
زید بہت ہی پکا سنی ہے ا ہلسنت کے طریقے پر جب قدم بقدم چلتا ہے ایک ذرہ بھی وہابیت کا نقص نہیں پایا جاتا وہابیوں سے متنفر رہتا ہے الغرض عقائد میں کسی قسم کی خرابی نہیں ایسے شخص کو بکر وہابی و کافر کہتا ہے چونکہ بکر نے زید کو بوقت اذان کے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نام مبارک پر انگشت کو بوسہ لیتے ہوئے اور درود شریف بآ واز بلند پڑھتے ہوئے نہ دیکھا زید کہتا ہے کہ اذان کا جواب دینا اور درود شریف حضور کے نام مبارک پر اس وقت پر نہ دل میں چاہیے لہذا میں دل میں پڑھتا ہوں اور جواب اذان دیتا ہوں اور زید انگشت چومنے سے انکار بھی نہیں کر کرتا ہے
جواب
اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید کو وہابی کہنا جائز نہیں اور اسے خارج ازاسلام ٹھہرانا سخت اور اشد کبیرہ ہے بکر پر تو بہ فرض ہے اور اس وقت درود شریف دل میں پڑھنے سے اگر زید کی مراد یہ ہے کہ زبان سے نہ پڑھا جائے تو غلط ہے زبان سے پڑھنا لازم ہے اور بآواز ہونا مستحب ہے کہ اوروں کو بھی ترغیت وتزکیر ہو اور اس پر درود شریف نہ پڑھنے کی بدگمانی نہ ہو
مزید پڑھیں:آذان سنت ہے یا واجب؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 04, Fatwa 184

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top