اذان میں کلمہ اشهد ان محمداً رسول اللہ سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا کیسا ہے؟
سوال
اذان میں کلمہ اشهد ان محمداً رسول اللہ سن کر انگوٹھے چومنا آنکھوں سے لگانا کیسا ہے؟
جواب
حضور پرنورشفیع یوم النشور صاحب لولاک صلی اللہُ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام پاک اذان میں سنتے وقت انگوٹھے یا انگشتان شہادت چوم کر آنکھوں سے لگا نا قطعاً جائز، جس کے جواز پر مقام تبرع میں دلائل کثیرہ قائم ۔
اور خود اگر کوئی دلیل خاص نہ ہوتی تو منع پر شرع سے دلیل نہ ہونا ہی جواز کے لئے دلیل کافی تھا، جو نا جائز بتائے ثبوت دینا اُس کے ذمہ ہے کہ قائل جواز ( جواز کا قول کرنے والا ) متمسک باصل (اصل کے ساتھ دلیل پکڑنے والا) ہے اور متمسک باصل محتاج دلیل نہیں، پھر یہاں تو حدیث وفقہ وارشاد علماء عمل قدیم سلف صلحا سب کچھ موجود ۔
علمائے محمد ثین نے اس باب میں حضرت خلیفہ رسول اللہ صل اللہ تعالی علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر و حضرت ریحانہ رسول الله سیدنا امام حسن و حسین و حضرت نقیب اولیا ئے رسول اللہ صلی للہ تعالی علیہ سلم سید نا ابو العباس خضرعلی الحبیب الکریم وعلیہم جمیعا الصلاة التسلیم و غیر ہم اکابر دین سے حدیثیں روایت فرمائیں جس کی قدرے تفصیل امام علامہ شمس الدین سخاوی رحمہ اللہ تعال نے کتاب مستطاب مقاصد حسنہ میں ذکر فرمائی اور جامع الرموز شرح نقایہ مختصر الوقاية و فتاوی صوفیه و کنز العبادورد المحتار حاشیه در تار وغیر ہا کتب فقہ میں اس فعل کےاستحباب کے صاف تصریح آئی۔
(مذکورہ بالا فرمان رساله منير العين في حكم تقبل الابهامین ” کے شروع میں تھا اور اس کے آخر میں فرماتےہیں)
حق اس میں اس قدر کہ فعل مذکور بحکم احادیث و به تصریح کتب فقیه مستحب و مندوب و امید گاه فصل مطلوب واب مرغوب جو کتب علماء و عمل قد ما وترغیب وارد پر نظر رکھ کر اسے عمل میں لائے اُس پر ہرگز کچھ مواخذہ نہیں بلکہ ثواب مروی کی امیدوار حسن ظن و صدق نیسمت باعث فضل جاوید ۔ اور جو اسکے مکروہ و منوع و بدعت بتائے مبطل و خاطی علمائ کرام مقتد ایان عام جب کسی منکر کو دیکھیں اُس کے سامنے ضرور ہی کریں کہ بد مذہب کار داور اُس کے دل پر غیظ اشد ہو جس طرح ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو نہر سے افضل مگر معتزلی منکرحوض کے سامنے حوض سے ( وضو کرنا ) بہتر (ہے)۔
جب ترک افضل اس نیت سے افضل (یعنی نہر میں وضوحوض میں وضو کرنے سے افضل تھا مگر معتزلی کہ حوض سے وضو کاانکار کرتا ہے اس کے جلانے کی نیت سے افضل یعنی نہرسے وضو کوترک کرنا فضل ٹھہرا) تو مستحب ومندوب تو آپ ہی افضل
مزید پڑھیں:نماز سے قبل صلوۃ اور جمعہ کی آذان ثانی
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 04, Fatwa 202

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top