انگھوٹے چومنے کے بارے میں موجود روایات صحیح یا ضعیف
سوال
زید کہتا ہے کہ انگوٹھے چومنے کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں ان کے بارے میں مقاصد حسنہ میں ہے لا يصح في المرفوع من كل هذا الشئ یعنی بیان کردہ مرفوع احادیث میں کوئی بھی درجہ صحت پر فائز نہیں
جواب
خادم حدیث پر روشن کہ اصطلاح محد ثین میں نفی صحت نفی حسن کو بھی مستلزم نہیں نہ کہ نفی و صلوح تمسک ، نہ کہ دعوی وضع کذب ۔
تو عند تحقیق ان احادیث پر جیسے باصطلاح محد ثین حکم صحت صحیح نہیں یونہی حکم وضع و کذب بھی ہرگز مقبول نہیں بلکہ تصریح ائمہ فن کثرت طرق سے جبر نقصان منصور ( فن حدیث کے ائمہ کے تصریح فرمانے کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں
کثرت طرق کی وجہ سے ضعیف احادیث کی کمی پوری ہوگئی ) اور عمل علماً وقبول قد ما حدیث کے لئے قوی ، (اس انگوٹھے چومنے والی حدیث کو علماء کے عمل اور ائمہ متقدمین کےقبول نے قوی بنا دیا )
دیگر اور نہ سہی تو فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف بالا جماع مقبول،
اور اس سے بھی گزرے تو بلا شبہ پیغل اکابر دین سے مروی ومنقول،
اور سلف صالح میں حفظ صحت بصر ( صحبت بصارت کی حفاظت ) و روشنائی چشم ( آنکھوں کی روشنی ) کے لئے مجرب اور معمول ایسے محل پر بالفرض اگر کچھ نہ ہوتو اسی قدر سند کافی بلکہ اصلا نقل بھی نہ ہو تو صرف تجر بہ وافی کہ آخر اس میں کسی حکم شرعی کا ازالہ نہیں ، نہ کسی سنت ثابتہ کا خلاف ، اور نفع حاصل تو منع باطل،
بلکہ انصاف کیجئے تو محدثین کا نفی صحت کو احادیث مرفوعہ ( وہ حدیث جس میں حضور صلی اللہ تعلی علیہ سلم کا قول فعل یا تقریر منقول ہو ) سے خاص کر نا صاف کہہ رہا ہے کہ وہ احادیث موقوفہ ( جو کسی صحابی پر موقوف ہوں ) کو غیر صحیح نہیں کہتے پھر یہاں حدیث موقوف کیا کم ہے، ولہذا ملاعلی قاری نے عبارت مذکورہ کے بعد فرمایا
” قلت و ادائیت رفعه إلى الصديق رضى الله تعالى عنه فيكفى للعمل به لقوله عليه الصلاة والسلام عليكم بسنتي ومسنة الخلفاء الراشدین “
یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی منہ سے ہی اس فعل کا ثبوت عمل کو بس ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ سلم فرماتے ہیں میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت اور اپنےخلفائے راشدین کی سنت ۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ۔
تو صدیق سے کسی شے کا ثبوت بعینہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثبوت ہے اگر چہ بالخصوص حدیث مرفوع درجہ صحت تک مرفوع نہ ہو۔
اس جواب کا مفہوم و خلاصہ درج ذیل ہے
ان احادیث کے بارے میں علماء کا یہ فرمانا کہ یہ صحیح نہیں اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ احادیث موضوع ( گڑھی ہوئی ہیں، بلکہ ضعیف ہونا بھی لازم نہیں آتا کیونکہ صحیح کے نیچے درجہ صحیح لغیرہ کا ہے، اس کے بعد حسن کا درجہ ہے ، اس کے بعد حسن لغیرہ کا درجہ ہے اور جس طرح صحیح دلیل بنتی ہے اسی طرح اس کے نیچے باقی تین قسمیں بھی بالا تفاق دلیل بن سکتی ہیں۔
اور بالفرض اگر یہ احادیث ضعیف بھی ہیں تو کثرت طرق (ایک سے زیادہ اسناد ہونے ) کی وجہ سے حسن لغیرہ ہوگئیں ہیں، اور یہ بھی بالاتفاق دلیل بن سکتی ہیں ۔
اگر بالفرض اس کو کثرت طرق کی وجہ سے قوت نہ بھی ملتی تب بھی علماء کے عمل نے اس کو قوت دے دی، کیونکہ علماءکا تو ماشاءاللہ کسی حدیث پر عمل کرنا اس کو قوی بنا دیتا ہے
اگر بالفرض یہ احادیث ضعیف ہیں اور کثرت طرق اور عمل علماء ان کو قوت نہ بھی دیتے تب بھی انگو ٹھے چومنے والے مسئلے میں ان کو دلیل بنایاجا سکتا ہے کیونکہ یہ فضائلِ اعمال سے ہے اور فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث بھی بالا جماع مقبول ہوتی ہے۔
اگر بالفرض انگو ٹھے چومنے کے بارے میں کوئی روایت نہ بھی ہوتی تب بھی یہ عمل مستحب ہی ہوتا کہ اکا بر ائمہ وعلماء سے مروی و منقول ہے اور جسے مسلمان بالخصوص علماء وائمہ اچھا سمجھ کر کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھا ہی ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے
ماراه المسلمون حسنا فهو عند الله حسنا
یعنی جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالی کےنزدیک بھی اچھا ہے۔
اگر یہ سب نہ بھی ہوتا تب بھی اس کے جواز کے لئے اتناہی کافی تھا کہ اسلاف میں سے منقول ہے کہ یہ عمل بصارت کے لئے مفید ہے اور مجرب ( تجربہ شدہ ) ہے اور اس میں کسی شرعی حکم کا خلاف لازم نہیں آرہا۔
بلکہ محد ثین کا یہ فرمانا کہ اس بارے میں کوئی مرفوع حدیث صحیح نہیں ، تو اس سے پتا چلا کہ انہوں نے حدیث موقوف کی صحت کی نفی نہ کی ۔ ( مرفوع حدیث کا مطلب ہے کہ حضور صل اللہ تعالی علیہ سلم کا قول فعل یا تقریر ہو اور حدیث موقوف کا مطلب ہے کہ کسی صحابی کا قول فعل یا تقریر ہو ) جب حدیث موقوف صحیح اس بارے میں موجود ہے تو وہ بھی دلیل بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:انگوٹھے چومنے کے بارے میں کچھ روایات اور اقوال ائمہ و فقہا ء
READ MORE  مدرسہ میں زکوۃ کا مال لگانا کیسا ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top