زندوں کی بے اعتدالی سے مردوں کو ایذا ہوتی ہے
:سوال
زندوں کی بے اعتدالی سے مردوں کو ایذا ہوتی ہے، اس بارے کچھ روایات ارشاد فرما دیں۔
:جواب
امام احمد بسند حسن عمارہ بن جزم رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے مجھے ایک قبر سے تکیہ لگائے دیکھا، فرمایا ( لا تؤذ صاحب هذا القبر )) یعنی اس قبر والے کو ایذا نہ دے۔ یا فرمایا (لا تو ذہ)) اسے تکلیف نہ پہنچا۔
( مشكورة المصاربیح بحوالہ احمد، ج 1 ، ص 78 مطبع مجتبائی دہلی)
ابن ابی الدنیا ابو قلا بہ بصری سے راوی، فرماتے ہیں میں ملک شام سے بصرہ کو جاتا تھا، رات کو خندق میں اتر اوضو کیا، دو رکعت نماز پڑھی، پھر ایک قبر پر سر رکھ کر سو گیا ، جب جاگا تو صاحب قبر کو دیکھا کہ مجھ سے گلہ کرتا ہے اور کہتا ہے ” لقد اذیتنی منذ الليلة ” اے شخص تو نے مجھے رات بھر ایذا دی۔
( مجمع الزوائد، ج 3، ص 61، دار الکتاب، بیروت )
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ( كسر عظم الميت واذاء كکسرہ حیا )) مردے کی ہڈی توڑنی اور اسے ایذا دینی ایسی ہے جیسی زندہ کی ہڈی توڑنی۔
(مسند احمد بن حنبل، ج 6، ص 105 ، دار الفکر، بیروت)
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا (احسنوا الكفن ولا تؤذوا موتاكم بعويل ولا بتأخير وصية ولا بقطعية وعجلوا قضاء دينه واعدلو عن جيران السوء )) کفن اچھا دو اور اپنی میت کو چلا کر رونے یا اس کی وصیت میں دیر لگانے یا قطع رحم کرنے سے ایذا نہ پہنچاؤ اور اس کا قرض جلد ادا کرو اور برے ہمسایہ سے الگ رکھو، یعنی قبور کفار واہل بدعت و فسق کے پاس فن نہ کرو۔
(فردوس بماثور الخطاب ، ج 1 ، ص 98، دار الكتب العلمية ، بیروت)
ابن ابی شیبہ اپنے مصنف میں سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ، فرماتے ہیں ((اذی المؤمن في موته كاذاه في حياته)) مسلمان کو بعد موت ایک دینی ایسی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچانی۔
المصنف لابن ابی شیبہ، ج 3، میں 367، ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ، کراچی) (ص 715 تا718)
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 05, Fatwa 292 to 296

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top