سحری میں تاخیر کرنا کیسا ؟ بعض حدیثوں میں ہے کہ حضور ﷺ نے بالکل آخری وقت میں سحری فرمائی، کیا ہمارے لیے بھی یہی حکم ہے؟
:سوال
سحری میں تاخیر کرنا کیسا ؟ بعض حدیثوں میں جو ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بالکل آخری وقت میں سحری فرمائی، کیا ہمارے لیے بھی یہی حکم ہے؟
:جواب
سحری کی تاخیر متحب و مسنون ہے، احادیث صحیحہ میں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ نے تعجیل افطار و تاخیرسحور کاحکم فرمایا۔ مگر تعجیل افطار کے معنی یہ ہیں کہ جب غروب آفتاب پر یقین ہو جائے فوراً افطار کرلے وہم و وسوسہ کو دخل نہ دے نہ بلا وجہ رافضیوں کی طرح شب کا ایک حصہ داخل ہونے کا انتظار کرے ، ایسی جلدی کہ ہنوز غروب میں شک ہو حرام و مفسد صوم ۔ اور تاخیر سحری کے معنی یہ ہیں کہ اُس وقت تک کھائے جب تک طلوع فجر کا ظن غالب نہ ہو بخلاف افطار کے کہ وہاں بحالت شک روزہ جاتا رہتا ہے، وجہ فرق یہ ہے کہ شروع مطہر کا قاعدہ کلیہ ہے کہ
الیقين لا يزول بالشك
یعنی شک سے یقین زائل نہیں ہوتا
، رات میں طلوع فجر کا جب تک شک نہ ہوا تھا بقائے لیل پر یقین تھا وقوع شک سے بھی یہ یقین زائل نہ ہوگا اور رات ہی کا حکم رہے گا جب تک طلوع فجر کا ظن غالب نہ ہو۔ اور افطار میں غروب شمس جب تک مشکوک نہ ہوا تھا دن پر یقین تھا تو حالت شک میں بھی وہی یقین حاصل ، اور دن باقی سمجھا جائے گا اور اُس وقت روزہ کھولنا دن میں کھولنا ٹھہرے گا ، زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے اب تک انہیں قواعد پر عمل رہا ہے۔ عادت مستمره حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہی تا خیر تھی ہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے برابر کسی کا علم نہیں ہو سکتا ۔ اوقات حقیقۂ جن میں حد مشترک صرف ایک آن ہوتی ہے، اُن کا امتیاز حقیقی طاقت بشری سے خارج ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس پر مطلع تھے، لہذا احیانا ایسی تاخیر واقع ہوئی کہ دوسرا اس پر قادر نہیں، ایک شب سحری تناول فرمانے کے بعد صرف اتنے وقفہ پر کہ آدمی پچاس آیات پڑھ لے نماز صبح شروع فرمادی۔ ایسے امور میں اتباع کی قدرت نہیں، ہمارے لیے وہی حکم ہے جو مذکور ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مزید پڑھیں:جمعہ کا روزہ نقل رکھنا کیسا ہے ؟
READ MORE  آذان کے بعد کسی خاص شخص کو نماز کے لئے بلانا بالخصوص کسی متکبر کو ، درست ہے یا نہیں؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top