ساری زندگی صدقہ کیا، مسجد بنوائی زکوۃ نہ دی، اسکا کیا حکم؟

ساری زندگی صدقہ کیا، مسجد بنوائی زکوۃ نہ دی، اسکا کیا حکم؟

:سوال
زید نے اپنے مال سے مسجد بنائی، ایک گاؤں فقراء کے لیے وقف کر دیا ، اس کے علاوہ فقراء میں خیرات بھی کرتا رہا مگر کافی سالوں سے زکوۃ ادا نہ کی ، جس کی رقم بہت زیادہ بنتی ہے، اس کے لیے اب کیا حکم ہے؟
: جواب
اس شخص نے آج تک جس قدر خیرات کی مسجد بنائی ، گاؤں وقف کیا، یہ سب امور صحیح ولازم تو ہو گئے کہ نہ دی ہوئی خیرات فقیر سے واپس لے سکتا ہے ، نہ کیے ہوئے وقف کو پھیر لینے کا اختیار رکھتا ہے، نہ اس گاؤں کی تو غیر ادائے زکوۃ ، نہ
اپنے اور کسی کام میں صرف کر سکتا ہے کہ وقف بعد تمامی لازم و حتمی ہو جاتا ہے جس کے ابطال کا ہرگز اختیار نہیں رہتا۔
مگر با ایں ہمہ جب تک زکوۃ پوری پوری نہ ادا کرے ان افعال پر امید ثواب و قبول نہیں کہ کسی فعل کا صحیح ہو جانا اور بات ہے اور اس پر ثواب ملنا مقبول با گاہ ہونا اور بات ہے، مثلاً اگر کوئی شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھے نماز تو ہوگئی فرض اُتر
گیا، پر نہ قبول ہوگی نہ ثواب پائے گا، بلکہ الٹا گناہگار ہوگا، یہی حال اس شخص کا ہے۔ اے عزیز ! اب شیطان لعین کہ انسان کا عدو مبین ( کھلا دشمن ) ہے بالکل ہلاک کر دینے اور یہ ذرا سا ڈورا جو قصد خیرات کا لگا اور رہ گیا ہے جس سے فقرہ کو تو نفع ہے، اسے بھی کاٹ دینے کے لیے یوں فقرہ سجھائے گا کہ جو خیرات قبول نہیں تو کرنے سے کیا فائدہ، چلو اسے بھی دور کرو، اور شیطان کی پوری بندگی بجالاؤ مگر الله عز وجل کو تیری بھلائی اور عذاب شدید سے رہائی منظور ہے، وہ تیرے دل میں ڈالے گا کہ اس حکم شرعی کا جواب یہ نہ تھا جو اس دشمن ایمان نے تجھے سکھایا اور رہا سہا بالکل ہی متمر دو سرکش بنایا بلکہ تجھے تو فکر کرنے تھی جس کے باعث عذاب سلطانی بھی نجات ملتی اور آج تک کہ یہ وقف و مسجد و خیرات بھی سب قبول ہو جانے کی اُمید پڑتی۔
مزید پڑھیں:قرآن و حدیث کی روشنی میں زکوۃ کی اہمیت اور نہ دینے کی وعیدیں
بھلا غور کروڑہ بات بہتر کہ بگڑتے ہوئے کام پھر بن جائیں ، اکارت جاتی محنتیں از سر نو شمر لائیں یا معاذ اللہ یہ بہتر کہ رہی سہی نام کو جو صورت بندگی باقی ہے اسے بھی سلام کیجئے اور کھلے ہوئے سرکشوں، اشتہاری باغیوں میں نام لکھا لیجئے۔
وہ نیک تدبیر یہی ہے کہ زکوۃ نہ دینے سے تو بہ کیجئے ، آج تک جتنی زکوۃ گردن پر ہے فورا دل کی خوشی کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننے اور اسے راضی کرنے کو ادا کر دیجئے کہ شہنشاہ بے نیاز کی درگاہ میں باغی غلاموں کی فہرست سے نام کٹ کر فرماں بردار بندوں کے دفتر میں چہرہ لکھا جائے۔ مہربان مولا جس نے جان عطا کی ، اعضا دئے ، مال دیا، کروڑوں نعمتیں بخشیں، اس کے حضور منہ اُجالا ہونے کی صورت نظر آئے اور مژدہ ہو، بشارت ہو، نوید ہو، تہنیت ہو کہ ایسا کرتے ہیں اب تک جس قدر خیرات دی ہے وقف کیا ہے، مسجد بنائی ہے، ان سب کی بھی مقبولی کی اُمید ہوگی کہ جس جرم کے باعث یہ قابل قبول نہ تھے جب وہ زائل ہو گیا انھیں بھی باذن اللہ تعالیٰ شرف قبول حاصل ہو گیا۔ چارہ کار تو یہ ہے آگے ہر شخص اپنی بھلائی برائی کا اختیار رکھتا ہے۔
مدت دراز گزرنے کے باعث اگر زکوۃ کا تحقیقی حساب نہ معلوم ہو سکے تو عاقبت پاک کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم جہاں تک خیال میں آسکے فرض کرلے کہ زیادہ جائے گا تو ضائع نہ جائے گا بلکہ تیرے رب مہربان کے پاس تیری بڑی حاجت کے وقت کے لیے جمع رہے گا ، وہ اس کا کامل اجر جو تیرے حوصلہ و گمان سے باہر ہے عطا فرمائے گا اور کم کیا تو بادشاہ ہار کا مطلب جیسا ہزار روپیہ کا ویسا ہی ایک پیسے کا۔
اگر بدیں وجہ (اس وجہ سے) کہ مال کثیر اور قرنوں ( مدتوں) کی زکوۃ ہے یہ رقم وافر ( زیادہ) دیتے ہوئے نفس کو درد پہنچے گا، تو اول تو یہ ہی خیال کر لیجئے کہ قصور اپنا ہے سال بہ سال دیتے رہتے تو یہ گھڑی کیوں بندھ جاتی ۔
پھر خدا سے کریم عز وجل کی مہربانی دیکھئے ، اس نے یہ حکم نہ دیا کہ غیروں ہی کو دیجئے بلکہ اپنوں کو دینے میں دونا ثواب رکھا ہے، ایک تصدق کا، ایک صلہ رحم کا۔ تو جو اپنے گھر سے پیارے دل کے عزیز ہوں جیسے بھائی، بھتیجے بھانجے، انھیں دے دیجئے کہ ان کا دینا چنداں نا گوار نہ ہوگا ہی اتنا لحاظ کرلیجئے کہ نہ وہ غنی ہو غنی باپ زندہ کہ نا بالغ بچے، نہ ان سے علاقہ زوجیت یا ولادت ہو یعنی نہ وہ اپنی اولاد میں نہ آپ انلی اولاد میں۔
مزید پڑھیں:صاحب نصاب عورت پر زکوۃ کا حکم
پھر اگر تم ایسی ہی فراواں ہے کہ گویا ہاتھ بالکل خالی ہوا جاتا ہے تو دئے بغیر تو چھٹکا رانہیں خدا کےوہ سخت عذاب ہزاروں برس تک جھیلنے بہت دشوار ہیں، دنیا کی یہ چند سانسیں تو جیسے بنے گزری جائیں گی، تاہم اگر چہ مریض اپنے ان عزیزوں کو بہ نیت زکوۃ دے کر قبضہ
دلائے پھر وہ ترس کھا کر بغیر اس کے جبر و اکراہ کے اپنی خوشی سے بطور ہبہ جس قدر چاہیں واپس کر دیں تو سب کے لیے سراسر فائدہ ہے، اس کے لیے یہ کہ خدا کے عذاب سے چھوٹا، اللہ تعالی کا قرض و فرض ادا ہوا اور مال بھی حلال و پاکیزہ ہو کر واپس ملا، جور ہاؤہ اپنے جگر پاروں کے پاس رہا، ان کے لیے یہ فائدے ہیں کہ دنیا میں مال ملاعقبے (آخرت) میں اپنے عزیز مسلمان بھائی پر ترس کھانے اور اسے ہبہ کرنے اور اس کے ادائے زکوۃ میں مدد دینے سے ثواب پایا۔
پھر اگر ان پر پورا اطمینان ہو تو زکوۃ سالہا سال حساب لگانے کی بھی حاجت نہ رہے گی، اپنا کل مال بطور تصدق انھیں دے کر قبضہ ولا دے پھر وہ جس قدر چاہیں اسے اپنی طرف سے ہبہ کردیں، کتنی ہی زکوۃ اس پر تھی سب ادا ہو گئی اور سب دلا دے پھر وہ جس قدر چاہیں اسے اپنی طرف سے ہبہ کردیں کتنی ہی زکوۃ اس پرتھی سب ادا ہو گئی اور سب مطلب بر آئے اور فریقین نے ہر قسم کے دینی ودنیوی نفع پائے ، مولی عز و جل اپنے کرم سے توفیق عطا فرمائے آمین آمین یارب العالمین والله تعالى اعلم وعلمه اتم
READ MORE  ضعیف حدیث سے احکام کے ثبوت پر اقوال علماء

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top