نماز میں ضاد کو مشتبہ بظاء پڑھا تو نمار صحیح ہوگی یا نہیں؟
:سوال
اگر کوئی شخص نماز میں ضاد کو مشتبہ بظاء پڑھے تو اس کی نمار صحیح ہوگی یا نہیں؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے؟
:جواب
یہ حرف دشوار ترین حرف ہے اور اس کی ادا خصوصا عجم پر کہ ان کی زبان کا حرف نہیں سخت مشکل مسلمانوں پر لازم کہ اس کا مخرج صحیح سے ادا کرنا سیکھیں اور کوشش کریں کہ ٹھیک ادا ہواپنی طرف سے نہ ظاد کا قصد کریں نہ دواد کا دونوں محض غلط ہیں اور جب اس نے حسب وسع و طاقت ( بقدر طاقت ) جہد کیا ( کوشش کی ) اور حرف صحیح ادا کرنے کا قصد کیا پھر کچھ نکلے اس مواخذہ نہیں (لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا) ترجمہ اللہ تعالیٰ کسی ذی نفس کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں ٹھہراتا۔
خصوصاً ظاء سے اس حرف کا جدا کرنا تو سخت مشکل ہے پھر ایسی جگہ ان سخت حکموں کی گنجائش نہیں تکفیر ایک امر عظیم ہے اور جمہور متاخرین کے نزدیک فساد نماز کا بھی حکم نہیں ۔ اور ائمہ متقدمین بھی علی الاطلاق حکم فساد نہیں دیتے۔ عجب کی بات ہے کہ ابنائے زمانہ ان باتوں میں بے طور جھگڑتے اور ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں حالانکہ اصول ایمان وامہات عقائد ( بنیادی عقائد ) میں جو فتنے طوائف جدید ( نئے فرقے ) پھیلا رہے ہیں ان سے کام نہیں رکھتے۔
 اور لطف یہ ہے کہ وہ جہال جن سے سہل حرف بھی ٹھیک ادا نہیں ہوتے ضاد اور دواد پر کٹے مرتے ہیں، اللہ تعالی ہم اہل اسلام کو نیک توفیق عطا فرمائے۔ ہاں اگر کوئی معاند بد باطن بقصد تغییر کلام الله و تبدیل وحی منزل من اللہ اس حرف خواہ کسی حرف خواہ کو بدلے گا تو وہ بیشک اپنے اس قصد خبیث کے سبب حکم کفر کا مستحق ہوگا ، اس میں ظادودادو سین سادسب برابر ہيں ـ وهذا هو محمل التعمد المذكور فى كلام الامام الفصلي رحمة الله تعالى عليه ، ترجمه امام فضلی رحمةاللہ تعالی علیہ کے کلام میں مذکور تعمد کا محمل یہی ہے ۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 05, Fatwa 333

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top