نماز میں مشتبہ لگا اور سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز کا حکم؟
:سوال
امام مغرب میں رکوع (لقد صدق الله رَسُولُهُ ﴾ پڑھ رہا تھا جب (فی الانجیل) تک پڑھ لیا آیت پارہ ۲۲ کا متشابہ لگا اُس کے بعد یہ آیت( انمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ ) تک پڑھی پھر جب یاد آیا اُسے چھوڑ کر مقام اصل سے شروع کیا اور نماز ختم کی اور سجدہ سہو نہ کیا اس صورت میں نماز ہوئی یا نہیں؟
:جواب
 نماز ہو گئی اور سجدہ سہو کی بھی حاجت نہ تھی اگر بقدرادا ئے رکن سوچتانہ رہا ہو۔
  ہاں اگر بھولا اور سوچنے میں اتنی دیر خاموش رہا جس میں کوئی رکن نماز کا اداہوسکتا ہے تو سجدہ سہولازم آیا۔ اگر نہ کیا تو نماز جب بھی ہوگئی مگر ناقص ہوئی پھیر نا واجب ہے۔
READ MORE  خطاب یافتہ مسلمان کے خطبہ و نماز کو حرام کہنا کیسا؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top