...
کوئی نشے والی چیز پی مگر ہوش و حواس قائم ہے اور منہ سے بدبو بھی نہیں آرہی تو اس صورت میں نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟

کوئی نشے والی چیز پی مگر ہوش و حواس قائم ہے اور منہ سے بدبو بھی نہیں آرہی تو اس صورت میں نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟

سوال
کوئی نشے والی چیز پی مگر ہوش و حواس قائم ہے اور منہ سے بدبو بھی نہیں آرہی تو اس صورت میں نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی یا نہیں؟
جواب
رسول اللہ صل اللہ تعالی علیہ سلم فرماتے ہیں
من شرب مسكرا ماكان لم تقبل له صلاة اربعين یوما
جو نشہ کی چیز پیئے چالیس دن اس کی نماز قبول نہ ہو
مگر وعیدات سب مقید مشیت ہیں یعنی اللہ کی مشیت پر موقوف ہیں
ويغفرُ مَا دُون ذلك لمن يشاء
ترجمہ شرک سے کم تر گناہ جسے چاہے بخش دے
صورت مذکورہ میں صحت نماز وادائے فرض میں شبہ نہیں رہا قبول محل عدل میں اس کی شرط عظیم ہے
انما يتقبل اللہ من المتقین
ترجمہ اللہ تعالی متقین ہی سے قبول کرتا ہے
اور مقام فضل
حدث عن البحر بماشئت ولا حرج
سمندر کے جو دوسخا کے بارے میں جو چاہو بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہاں رب العزۃ نے حدیہ مقرر فرمائی ہے
وحتی تعلَمُوا ما تقولُونَ
ترجمہ: یہاں تک کہ تم جان لو جو کچھ کہہ رہے ہو۔
اس آیت کی وجہ
جب حالت یہ ہو اور شرائط مجتمع، تو زید سے عدم قبول پر جزم ( یقین ) جہل وجرأت علی اللہ ہے جیسے عمر غیر شارب (شراب نہ پینے والے) سے قبول پر ( غیر جزم ہے)۔ ہاں اجمالاً یوں کہہ سکتے ہیں کہ شارب کی نماز چالیس دن ( تک ) قبول نہیں، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا، خالص زید پر حکم باطل ہی ہے جیسے
الا لعنة الله علی الظلمین
ترجمہ گواہ رہو کہ ظالموں پراللہ کی لعنت ہے۔ (اس آیت کی وجہ سے) یوں کہنا جائز کہ ظالم ملعون ہیں اور یہ کہنا حرام کہ زید پر لعنت

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.