کیا نماز کے بعد مصافحہ کرنا روافض کا طریقہ ہے؟
:سوال
زید کہتا ہے کہ بعض کتب میں نماز کے مصافحہ کرنے کو روافض کا طریقہ لکھا ہے، لہذا اس سے بچنا چاہئے۔
:جواب
کسی طائفہ باطلہ کی سنت جبھی تک لائق احتراز رہتی ہے کہ وہ ان کی سنت رہے، اور جب ان میں سے رواج اُٹھ گیا تو ان کی سنت ہونا ہی جاتا رہا، احتر از کیوں مطلوب ہوگا، مصافحہ بعد نماز اگر سنت روافض تھا تو اب ان میں رواج نہیں، نہ وہ جماعت سے نماز پڑھتے ہیں نہ بعد نماز مصافحہ کرتے ہیں، بلکہ شاید اول لقاء پر بھی مصافحہ ان کے یہاں نہ ہو کہ ان اعدائے سنن کو سنن سے کچھ کام ہی نہ رہا، تو ایسی حالت میں وہ علت سرے سے مرتفع ہے۔ درمختار میں ہے
يجعـلـه لبـطـن كـفه في يده اليسرى ، وقيل اليمنى الا انه من شعار الروافض فيجب التحرز عنه، قهستاني وغيره، قلت ولعله كان و بان فتبصر
“ ترجمہ: مردانگونگی بائیں ہاتھ میں ہتھیلی کی طرف کرے، اور کہا گیا دائیں ہاتھ میں پہنے، مگر یہ رافضیوں کا شعار ہے، تو اس سے بچنا ضروری ہے، (قہستانی وغیرہ) میں نے کہا یہ کسی زمانے میں رہا ہوگا پھر ختم ہو گیا، تو اس پر غور کر لو۔
(در مختار، ج 6، ص 361 مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)
رد المحتار میں ہے
اى كان ذلك من شعار هم في الزمن السابق ثم انفصل وانقطع في هذه الازمان فلا . ينهى عنه كيفما كان
ترجمہ : یعنی وہ گزشتہ زمانے میں ان کا شعار تھا پھر ان زمانوں میں نہ رہا اور ختم ہو گیا تو اب اس سے ممانعت نہ ہوگی، جیسے بھی ہو۔
(رد المحتار، ج 6، ص 361، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)
مزید پڑھیں:نماز کے بعد مصافحہ کرنا کیسا ہے؟
مزید پڑھیں:احناف کے نزدیک معانقہ (گلے ملنے) کا حکم؟
مزید پڑھیں:معانقہ کی ممانعت والی احادیث کا کیا حکم ہے؟
READ MORE  کیا بارہ سال کم عمر کا بچہ بالغین کی امامت کر سکتا ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top