کیا واقعی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے؟
سوال
کیا واقعی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ہے؟
جواب
فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے حدیث ضعیف ثبوت استحباب کے لیے بس ہے امام شیخ الاسلام ابو ذکریا نفعنا اللہ تعالی ببر کا عطا فرماتے ہیں
قال العلماء من المحدثین والفقھا وغیر ھم یجوز ویستحب العمل فی الفضائل والترغیب والترھیب بالحدیث الضعیف ما لم یکن موضوعا
محدثین و فقہا وغیر ہم علما نے فرمایا کہ فضائل اور نیک بات کی ترغیب اور بُری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز و مستحب ہےجبکہ موضوع نہ ہو۔
مولا نا علی قاری موضوعات کبیر میں حدیث مسح گردن کا ضعف بیان کر کے فرماتے ہیں
” الضعيف يعمل به في الفضائل الاعمال اتفاقا ولذا قال ائمتنا ان مسح الرقبة مستحب اوسة “
فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر بالاتفاق عمل کیا جاتا ہے اس لئے ہمارے ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو میں گردن کا مسح مستحب یا سنت ہے
امام جلیل سیوطی فرماتے ہیں
استحبه ابن الصلاح وتبعه النووى نظر الى ان الحديث الضعيف يتسامح به في فضائل الاعمال ،
تلقین کو امام ابن الصلاح پھر امام نووی نے اس نظر سے مستحب مانا کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے۔
اقول وباللہ التوفیق (اللہ کی توفیق سے میں کہتا ہوں ) بلکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کے معنی ہی یہ ہیں کہ استحباب مانا جائے ورنہ نفس جواز تو اصالت اباحت وانعدام نبی شرعی سے آپ ہی ثابت ، اس میں حدیث ضعیف کا کیا دخل ہوا تو لا جزم ورود حدیث کے سبب جانب فعل کو مترجح مالیے کہ حدیث کی اسناد متحقق اور اس پر عمل ہونا صادق ہو اور یہی معنی استحباب ہے
مزید پڑھیں:کس درجہ کی بات کس طرح کی حدیث سے ثابت ہوتی ہے؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 04, Fatwa 206, 207

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top