...
ایک شخص چارپائی پر بیٹھا ہے یا لیٹا ہے یا سو رہا ہے اس کے پیچھے جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

ایک شخص چارپائی پر بیٹھا ہے یا لیٹا ہے یا سو رہا ہے اس کے پیچھے جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

سوال
ایک شخص چارپائی پر بیٹھا ہے یا لیٹا ہے یا سو رہا ہے اس کے پیچھے جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
اگر کوئی شخص چارپائی پر بیٹھا خواہ لیٹا ہے اور اس طرف اس کی پیٹھ ہے تو اس کے پیچھے جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر اس طرف پیٹھ کیے سو رہا ہے جب بھی مضائقہ نہیں
مگر سوتے کے پیچھے پڑھنے سے احتراز مناسب ہے دو وجہ سے
ایک یہ کیا معلوم اس کے نماز پڑھنے میں وہ اس طرف کروٹ لے اور ادھر اس کا منہ ہو جائے د
وسرے محتمل ہیں کہ سوتے میں اس سے کوئی ایسی شے صادر ہو جس سے نماز میں اسے ہنسی آ جانے کا کا اندیشہ ہو

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.