عالم و متقی کی موجودگی میں عام شخص کو امام بنانا کیسا؟
:سوال
ایک شخص کو کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ مسائل دین نہ علم قرآت سے واقف، ایک معمولی اردو خوں بلکہ بازار میں کتب فروشی و نعلین فروشی کی دکان کر نیوالا ہے ایک مسجد کا امام بننا چاہتا ہے حالانکہ دو عالم متقی و محتاط اسی مسجد میں اور بھی موجود ہیں اور مہتمم مسجد و اکثر نمازی اس شخص کی امامت سے راضی نہیں اس صورت میں ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
: جواب
صورت مسئولہ میں اُس شخص کو امام بنا جائز نہیں اگر امامت کرے گا گنہگار ہوگا جب لوگ اسکی امامت اس وجہ سے ناپسند رکھتے ہیں کہ اُس سے زیادہ علم والے موجود ہیں تو اُسے امامت کرنا شرعاً منع ہے۔ پس شخص مذکور ہرگز امامت نہ کرے بلکہ جوسنی صحیح العقیدہ غیر فاسق کہ حروف بقدر صحت نماز ٹھیک ادا کرتا اور وہاں کے نمازیوں میں سب سے زیادہ مسائل نماز کا علم رکھتا ہو اس کو امام کیا جائے کہ حق صاحب حق کو پہنچے اور مقتدیوں کی نماز بھی خوبی و خوش اسلوبی پائے۔ حدیث شریف میں ہے” ان سركم ان تقبل صلوتكم فليؤمكم علماؤكم ” اگر تمھیں اپنی نماز مقبول ہونا منظور ہے تو چاہئیے کہ تمھارے علماءتمہاری امامت کریں۔
( مجمع الزوائد،ج2،ص64، دار الکتاب، بیروت)
کیا یہ شخص جس کے جہل کے باعث اکثر نمازی اس کی امامت سے ناراض ہیں اُن سخت وعیدوں سے خوف نہیں کرتا جو ایسے امام کے حق میں آئیں۔ حضور پر نو رسید لم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ثلثة لا يقبل الله منهم صلوة من تقدم قوما وهم له کارهون” تین اشخاص ہیں جن کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا ایک وہ جو لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند رکھتے ہوں۔
(سنن ابي داؤ ر ،ج 1، ص 88، آفتاب عالم پریس، لاہور )
دوسری حدیث میں ہے” من امر قوماً وفيهم أقرأ الكتاب الله منه واعلم لم يزل في سفال إلى يوم القيامة ”جو کسی قوم کی امامت کرے اور اُن میں وہ شخص موجود ہو جو اس سے زیادہ قاری قرآن و ذی علم ہے وہ قیامت تک پیستی و خواری میں رہے گا۔
( كتاب الضعفاء الكبير، ج 4، ص 355 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
READ MORE  جمعہ کا امام کون ہو سکتا ہے؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top