امام مسجد کی موجودگی میں کسی فاضل کو امام بنانا کیسا؟
:سوال
زید ایک مسجد میں ہمیشہ سے امامت کے واسطے معین ہے اور ایک شخص اس سے افضل کسی شہر سے آیا چند آدمیوں نے چاہا کہ یہ شخص فاضل ہے اس وقت کی نماز یہی پڑھائے ، امام قدیم سے پو چھا کہ آپ کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس نے انکار کیا، مگر چند آدمیوں نے اس مسافر کو کھڑا کر دیا ، ان لوگوں اور مسافر کے بارے میں کیا حکم ہے؟
:جواب
اگر امام قدیم مثل غلط خوانی قرآن بحد افساد نماز یا بد مذہبی مثل و ہا بیت و غیر مقلدی یا فسق ظاہر مانند شراب نوشی و زنا کاری کوئی خلل ایسا نہ ہو جس کے باعث اسے امام بنانا شرعاً ممنوع ہو تو اس مسجد کی امامت اسی کا حق ہوتی ہے، اس کے ہوتے ہوئے دوسرے کو اگر چہ اس سے زیادہ علم وفضل رکھتا ہو ہے اس کی اجازت کے امام بننا بنانا شرعاً ناپسندیدہ وخلاف حکم حدیث و فقہ ہے ، حضور پر نورصلی تعا لی علیہ و سلم فرماتے ہیں ” لا يؤمن الرجل في سلطانہ ” ترجمہ: امام مسجد کی موجودگی میں کوئی دوسرا شخص امامت نہ کرائے۔
(صحیح مسلم ، ج 1، ص 236 ، قدیمی کتب خانہ ،کراچی)
دوسری حدیث میں ہے ”من زار قوماً فلا يؤمهم وليؤ مهم رجل منهم ” ترجمہ: جو شخص کسی قوم کا مہمان ہے وہ ان کی امامت نہ کروائے بلکہ اس قوم میں سے کوئی شخص ان کا امام بنے۔
( سنن ابو دا و د، ج 1، ص 88 ، آفتاب عالم پریس، لاہور )
پس صورت مستفرہ میں اگر اس امام قدیم میں اس قسم کا کوئی خلل نہ تھا تو بلا شبہ با وصف اُس کی ممانعت کے اس مسافر کا امام بننا ناحق اسکے حق میں دست اندازی کرنا ہوا اور یہ خود اور وہ چند آدمی جنہوں نے ایسی حالت میں اسے امام بنایا مبتلائے کراہت و مخالف حکم شریعت ہوئے۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 419

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top