اگر وہابی آذان دے تو اسکا جواب دینا چاہئے یا نہیں؟
سوال
ایک شخص وہابی ہے یا ان کا ہم خیال ہے اگر وہ اذان دے سنی کی مسجد میں تو اس کا جواب سنی دے یا نہیں؟
اور جب سنی اس مسجد میں نماز کے کیلئے جائے تو اپنی اذان کہے یا اس کی اذان پر اکتفا کرے اور دوسری اذان نہ کہے؟
جواب
اسم جلالت پر کلمہ تعظیم اور نام رسالت پر درود شریف پڑھیں گے اگر چہ یہ اسمائے طیبہ کسی کی زبان سےادا ہوں، مگر وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں، اور اہلسنت کو اس پر اکتفا کی اجازت نہیں بلکہ ضرور دوبارہ اذان کہیں ، درمختار میں ہے
و بعاد اذان کافر و فاسق
( کافر اور فاسق کی اذ ان لوٹائی جائے )
مزید پڑھیں:آذان نابالغ دے تو جائز ہے یا نہیں؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 479

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top