افیون بغرض دوا کھانے والے کے پیچھے نماز کا حکم
: سوال
ایک شخص تھوڑی سی افیون بغرض دوا کھاتا ہے اور اسکے سبب اسے نشہ نہیں ہوتا ایسے کی امامت مکروہ ہے یا نہیں؟
:جواب
نشہ جو ہمارے محاورہ میں سکر و تفتیر دونوں کو عام ہے اور بنص حدیث دونوں حرام اُس کے یہی معنی نہیں کہ زمین و آسمان یا مردو عورت میں امتیاز نہ رہے یہ تو اس کی انتہا ( ہے )۔ اور نشہ کی ابتدا انتہا دونوں حرمت میں یکساں (ہیں)، پس اگر افیون کے سبب کچھ بھی اس کی عقل میں فتور یا حواس میں اختلال پیدا ہو تو کسی وقت پینک آتی ہو بیٹھے بیٹھے اونگھ جاتا ہو کسی وقت گردن ڈھلتے یا آنکھیں چڑھ جاتیں اُن میں لال ڈورے پٹرتےہوں جسے یہ لوگ اپنی اصطلاح میں کیف و سرور کہتے ہیں تو یہ سب صورتیں حرام ہیں اور اُن کا مرتکب فاسق اور اس کے پیچھے نماز مکروہ بلکہ اگر صرف اتنا ہی ہوتا کہ جس دن نہ کھائے جمائیاں آئیں
، اعضا شکنی ہو، دوران سر ہو، تاہم حرمت میں شک نہیں کہ ترک پر خمار پیدا ہونا صاف بتا رہا ہے کہ استعمال بطور دو انہیں نفس اس کا خوگر ہو گیا ہے اور بلا غرض مرض اپنی طلب و شوق سے اُسے مانگتا ہے اور یہ صورت خود نا جائز ہے اگر چہ نشہ نہ ہو بلکہ حقیقتہ یہ حالت اُسی کو پیدا ہو گی جس دماغ میں افیون اپنا عمل نا جائز کرتی ہو ورنہ مجرد ( صرف ) دوا کا ترک خمار نہیں لاتا۔ ہاں اگر ان سب حالتوں سے پاک ہے اور واقعی صرف حالت مرض میں بقصد دوااتنی قلیل مقدار پر استعمال کرتا ہے کہ نہ اس کے کھانے سے سرور آتا ہے اور نہ چھوڑ نے سے خمار، تو اس کے پیچھے نماز مکروہ نہیں۔
READ MORE  امام میں نقص شرعی ہے تو اسکے پیچھے نماز کا حکم؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top