عام مسلمانوں کی قبروں پر روشنی کرنا کیسا ہے؟
:سوال
عام مسلمانوں کی قبروں پر روشنی کرنا کیسا ہے؟
:جواب
قبور عامہ ناس ( عام لوگوں کی قبروں) پر روشنی جب کہ خارج سے کوئی مصلحت نہ ہو ضرور اسراف ہے اور اسراف پر بیشک ممنوع ، فقہاء اسی کو منع فرماتے ہیں کہ یہی علت منع بتاتے ہیں ، اور اگر زینت قبر مطلوب ہو تو قبر محل زینت نہیں ، اب بھی اسراف ہوا بلکہ کچھ زائد ، یوں ہی اگر تعظیم قبر مقصود ہو کہ یہاں تعظیم نسبت نہیں ،رہے مزارات محبوبان الہ (اللہ کے محبوب بندوں کے مزارات ) ان میں اگر زینت قبر یا تعظیم نفس قبر کی نیت ہو یہاں بھی وہی ممانعت رہے گی
کہ یہ غیتیں شرعاً محمود نہیں اور اگر ان کی روح کریم کی تعظیم و تکریم مقصود ہو، اب نہ اسراف ہے کہ نیت صالحہ موجود ہے، نہ عظیم قبر بلکہ تعظیم روح محبوب ، اور وہ شرعاً بلا شبہ مطلوب ۔ امام اجل تقی الدین سبکی و امام نور الدین سمهودی و امام عبد الغنی نابلسی رحم اللہ تعالی اس کو جائز بتاتے ہیں اور کسی کے قلب پر حکم لگانا کہ اسے تعظیم قبری مقصود ہے نہ کہ تعظیم روح ولی محض خراف و بد گمانی و حرام بنص قرآنی ہے۔
اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے یا ایها الذین امنوا اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم ﴾ ترجمہ: اے ایمان والو ! زیادہ گمان سے بچو، بلا شبہ بعض گمان گناہ ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں (( اياكم والظن فان الظن أكذب الحدیث)) ترجمہ: سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: گمان سے بچو کہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔
(صحیح البخاری ، ج 1 ، ص 384 ، قدیمی کتب خانہ کراچی)
اور تعظیم روح اور تعظیم قبر میں فرق نہ کرنا سخت جہالت ۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ مسند شریف میں بسند حسن روایت فرماتے ہیں: مروان نے اپنے زمانہ تسلط میں ایک صاحب کو دیکھا کہ قبر اکرم سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر اپنا منہ رکھتے ہوئے ہیں ، مروان نے ان کی گردن مبارک پکڑ کر کہا: جانتے ہو کیا کر رہے ہو؟ اس پر ان صاحب نے اس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: ہاں میں سنگ وگل ( پتھر اور مٹی ) کے پاس نہیں آیا ہوں میں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور حاضر ہوا ہوں، میں اینٹ پتھر کے پاس نہ آیا، میں نے رسول صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم کو فر ماتے سنا دین پر نہ روؤ جب اس کا اہل اس پر والی ہو، ہاں اس وقت دین پر رو جبکہ نا اہل والی ہو۔
(مسند احمد بن قبل 56ج اس 422، دار الفکر، بیروت)
یہ صحابی سید نا ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ تھے، تو عظیم قبر روح مطہر میں فرق نہ کرنا مروان کی جہالت ہے اور اسی کے ترکہ سے وہابیہ کو پہنچی ، اور تعظیم قبر سے جدا ہو کر تعظیم روح کریم کی برکت لینا صحابہ کرا رضی اللہ عنہم کی سنت ہے اور اہلسنت کو ان کی میراث ملی، ولله الحمد
(ص520)
READ MORE  نماز کے ارکان و رکعات شمار کرنے میں آدمی مقرر کرنا کیسا؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top