تین وتر کے بجائے ایک وتر پڑھنا کیسا ہے؟
:سوال
تین وتر کے بجائے ایک وتر پڑھنا کیسا ہے؟
:جواب
ایک رکعت وتر خواه نقل باطل محض ہے۔ حضور اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کاآ خری فعل تین رکعت وتر ہے۔ و انما يؤخذ بالآخر فهو الآخر من فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم ، آپ کے آخری عمر کے اعمال پرعمل کیا جاتا ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل یہی ہے۔اتنا یادر ہے کہ یہاں ان مسائل ( امام کے پیچھے قرآت ، آمین بلند آواز سے کہنے، آٹھ تراویح اور ایک وتر پڑھنے میں مخالفت کرنے والے غیر مقلدین وہابیہ ہیں جن پر بوجوہ کثیر ہ ان کے ضالہ کے سبب کفر لازم، جس کی قدرے تفصیل ہمارے رسالہ الکوکبۃ الشھابیة میں ہے
مزید پڑھیں:دونوں سجدوں کے درمیان دعا پڑھنا کیسا؟
وہ کہ مسلمان ہی نہیں انھیں ایسے فروعی مسائل اسلامی میں دخل دینے کا کیا حق ، ان سے تو اصول پر گرفت کی جائے گی کہ مقتدی فاتحہ پڑھے نہ پڑھے آمین جہرسے کہے یا آہستہ، تراویح آٹھ رکعت ہوں یا بیس وتر ایک ہویا تین ، یہ تو سب اس پر موقوف ہیں کہ نماز بھی صحیح ہو جس کا اسلام صحیح نہیں اس کی نماز کیسے صحیح ہوسکتی ہے وہ ان مسائل میں اس طرف عمل کرے تو اُس کی نماز باطل، اُس طرف عمل کرے تو باطل ، پھر لایعنی فضول زق زق سے کیا فائدہ !اور مسلمان کو ہوشیار رہنا چا ہے
کہ نہ ان سے ملنا جائز ، نہ ان کی بات سننی جائز ، نہ اس کے پاس بیٹھنا جائز الله عز وجل فرماتا ہے او اما ینبینک الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ﴾ ترجمہ اور جب کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں اياكم واياهم لا يضلو نكم ولا يفتنونكم “ ترجمہ: تم ان سے سخت بچو کہ نہ وہ تمہیں گمراہ کریں نہ ہی فتنہ میں ڈالیں۔
مزید پڑھیں:بجائے بیس رکعت تراویح کے آٹھ رکعت پڑھے تو درست ہے؟
READ MORE  کیا عشر کا ذکر بھی قرآن مجید میں ہے؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top