ستائیس 27 رجب کا روزہ رکھنے کا ثبوت احادیث میں ہے یا نہیں؟

ستائیس 27 رجب کا روزہ رکھنے کا ثبوت احادیث میں ہے یا نہیں؟

:سوال
ستائیس 27 رجب کا روزہ رکھنے کا ثبوت احادیث میں ہے یا نہیں؟
:جواب
بیہقی شعب الایمان اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً روایت کی
( فی رجب يوم وليلة من صام ذلك اليوم وقام تلك الليلة كان كمن صام من الدهر مائة سنة وقام مائة سنة وهو لثلث بقين من رجب وفيه بعث الله تعالى محمدا صلى الله تعالیٰ علیہ وسلم )
) ترجمہ: جب میں ایک دن اور رات ہے جو اس دن کا روزہ رکھے اور وہ رات نوافل میں گزارے سو برس کے روزوں اور سو برس کے شب بیداری کے برابر ہو، اور وہ رجب ہے اسی تاریخ اللہ عز و جل نے محمد صلی
اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔
الفردوس بمأثور الخطاب ، ج 3 میں 142 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت شعب الایمان ، ج 3 ص 374 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت )
قال البيهقي منکر ۔ ترجمہ: امام بیہقی نے اس روایت کو منکر کہا ہے۔
(کنز العمال، ج 12، ص 312 مکتبة التراث الاسلامی، بیروت)
نیز اسی میں بطریق ابان بن عیاش حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً مروى
في رجب ليلة يكتب للعامل فيها حسنات مائة سنة وذلك لثلث بقين من رجب فمن صلى فيه اثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورية من القرآن، ويتشهد في كل ركعة ويسلم في آخرهن، ثم يقوله سبحن الله والحمد لله ولا اله الالله والله اكبر مائة مرة ويستغفر الله مائة مرة ويصلى عن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم مائة مرة ويدعو لنفسه ماشاء من امر دنياه وآخرته ويصبح صائما فان الله يستجيب دعاء كله الان يدعوفى معصية )
ترجمہ : رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں عمل نیک کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے جو اس میں بارہ رکعت پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور ایک سورت، اور ہر دورکعت پر التحیات اور آخر میں بعد سلامسجن الله والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر سوبار، استغفار سو بار، درود سوبار، اور اپنی دنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو رزہ رکھے تو اللہ تعالی اس کی سب دعا ئیں قبول فرمائے سوائے اس دُعا کے جو گناہ کے لیے ہو۔
(شعب الایمان ، ج3 ، ص 374، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
قال البيهقي هو اضعف من الذي قبله
ترجمہ: بيہقي فرماتے ہیں یہ روایت سابقہ روایت سے زیادہ ضعیف ہے۔
(کنز العمال ، ج 12 ص 312 مؤسسة الرسالة ، بیروت)
قال ابن حجر فيه متهمان۔
ترجمہ: حافظ ابن حجر کہتے ہیں اس کے دوراوی متہم بالکذب ہیں۔
(ما ثبت بالسنت ص 252، ادارہ نعیمیہ رضویہ لال کھوہ موچی گیٹ، لاہور )
فوائدہناد میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی
( بعث نبيا في السابع والعشرين رجب فمن صام ذلك اليوم ودعا عند افطاره كان له كفارة عشر سنتين)
اسنادہ منکر ۔ ترجمہ: رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کےوقت دعا کرے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو۔ اس کی اسناد منکر ہے۔
(ترید الشریعہ بحوالہ فوائد ہنادر ج 3 ، ص 161، دار الكتب العلمية ، بیروت)
جزء ابی معاذ مروزی میں بطریق شہر ابن حوشب ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقو فا مروی
(من صام يوم سبع وعشرين من رجب كتب الله له صيام ستين شهر ا وهو اليوم الذي هبط فيه جبريل على محمد صلى الله تعالى عليه وسلم بالرسالة)
ترجمہ: جورجب کی ستائیسویں کا روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھے، اور وہ دن ہے جس میں جبریل علیہ الصلوۃ والسلام محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے پیغمبری لے کر نازل ہوئے۔
تنزيہ الشريعہ بحوالہ جزء ابی معاذ، ج 3 ، ص 161 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
تنزیہ الشریعہ سے ما ثبت بالستہ میں ہے
” وهذا أمثل ما ورد في هذا المعنى “
ترجمہ: یہ ان سب حدیثوں سے بہتر ہے جو اس باب میں آئیں۔
ما ثبت بالسنة مع اردو ترجمہ میں 234، ارادہ نعیمیہ رضویہ لال کھوہ موچی گیٹ لاہور )
بالجملہ اس کے لیے اصل ہے اور فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف با جماع ائمہ مقبول ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مزید پڑھیں:افطار کی دعا افطار کے بعد پڑھنی چاہیے یا پہلے؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 05, Fatwa 282, 283

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top