عیدین کے بعد دعا مانگنے کا کیا حکم ہے؟
:سوال
بعض لوگ کہتے ہیں کہ عیدین کے بعد دعا مانگنا قرآن وسنت سے ثابت نہیں؟ لہذا نہیں مانگنی چاہئے۔
: جواب
شرع مطہر سے اس دعا کی کہیں ممانعت نہیں اور جس امر سے شرع نے منع نہ فرمایا ہر گز منوع نہیں ہو سکتا، جو ادعائے منع کرے اثبات ممانعت اس کے ذمہ ہے جس سے ان شاء اللہ تعالیٰ کبھی عہدہ برآ نہ ہو سکے گا بقاعدہ مناظرہ ہمیں اسی قدر کہنا کافی ۔۔۔ جو کچھ قرآن وحدیث سے قلب فقیر پر فائز ہوا بگوش ہوش استماع کیجئے۔
:اولا
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
فاذا فرغت فانصب والی ربک فارغب
جب تو فراغت پائے تومشقت کر اور اپنے رب کی طرف راغب ہو۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اصبح الاقوال قول حضرت امام مجاہد تلمیذ رشید سلطان المفسر بن حبر الا متہ عالم القرآن حضرت سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ہے کہ فراغ سے مراد نماز سے فارغ ہونا اور نصب دعا میں جد جہد کرنا ہے یعنی باری عزو جل حکم فرماتا ہے جب تو نماز پڑھ چکے تو اچھی طرح دُعا میں مشغول ہو اور اپنے رب کے حضور الحاح وزاری کر۔ تفسیر شریف جلالین میں ہے
پھر فرمایا
” رواه الاربعة وابن حبان والحاكم كلهم من حديث الصديق رضى الله تعالى عنه ،
یعنی یہ ادب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اُس حدیث سے ثابت ہے جسے ابوداؤ د ونسائی و ترمذی و ابن ماجه وابن حبان و حاکم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
حواشی حسن حسین میں 9 مطبوع الفضل المطابع لکھنو )
مزید پڑھیں:کیا سنت مؤکدہ کو ترک کرنا گناہ ہے؟
اقول
یونہی یہ حدیث ابن السنی و بیہقی کے یہاں مروی اور صحیح ابن خزیمہ میں بھی مذکور، امام ترمذی نے اسکی تحسین کی۔
ظاہر ہے کہ نماز ذات رکوع و سجود، نماز جنازہ کے سوا ہر فرض و واجب و نافلہ کو شامل جن میں نماز عیدین بھی داخل ۔
ثم اقول وبالله التوفيق
پھر میں اللہ کی توفیق سے کہتا ہوں اصل یہ ہے کہ ا یہ ہے کہ اعمال صالحہ وجہ رضائے مولی جل وعلا ہوتے ہیں اور رضائے مولی تبارک و تعالی موجب اجابت دعا ( دعا کی قبولیت کا سبب ہوتے ہیں ) اور اس کا محل عمل صالح
سے فراغ پا کر جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
فاذا فرغت فانصب
ترجمہ: پس جب آپ فارغ ہوں تو مشقت کرو۔ لہذا حدیث میں آیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا (الم تر الى العمال يعملون فاذا فرغوا من اعمالهم وقوا اجورهم )) ترجمہ: کیا تو نے نہ دیکھا کہ مزدور کام کرتے ہیں جب اپنے عمل سے فارغ ہوتے ہیں اُس وقت پوری مزدوری پاتے ہیں۔ اسے بیہقی نے احادیث طویل کی صورت میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔
(شعب الایمان ، ج 2، ص 303 مطبوعہ دار الفکر بیروت) –
تو سائل کے لئے بیشک بہت بڑا موقع دعا ہے کہ مولی کی خدمت وطاعت کے بعد اپنی حاجات عرض کرے ولہذا وارد ہوا کہ ہر ختم قرآن پر ایک دعا مقبول ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ( ( مع كل ختمة دعوة مستجابة)) ترجمہ : ہر ختم کیسا تھ ایک دعا مستجاب ہے۔ (شعب الایمان ، ج 2 ، ص 374، دار الكتب المعلمية ، بیروت) اسی لئے روزہ دار کے حق میں ارشاد ہوا کہ افطار کے اس وقت اس کی ایک دعا رد نہیں ہوتی ۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ( ( ثلثة لا تر ددعوتهم الصائم حين يفطر )) ترجمہ: تین شخصوں کی دُعا رد نہیں ہوتی ایک اُن میں روزہ دار جب افطار کرے۔
(سنن ابن ماجه ص 126 ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)
بالیقین یہ فضیلت روزہ فرض واجب و نفل سب کو عام کہ نصوص میں قید و خصوص نہیں ۔۔۔ تو بلاشبہہ نماز بھی کہ افضل اعمال و اعظم ارکانِ اسلام اور روزے سے زائد موجب رضائے ذوالجلال والاکرام ہے کیو نہی اپنے عموم و اطلاق پر رہے گی اور بعد فراغ محلیت دعا صرف فرائض سے خاص نہ ہوگی، اور کیونکر خاص ہو حالانکہ خود حضور پرنورسید علم صلی للہا علیہ سلم نے ہر دورکعت نفل کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعامانگنےکا حکم دیا اورفرمایا جو ایسانہ کرے اُس کی نماز ناقص ہے۔ حضوراقدس صلی اللہ علی الہ سلم فرماتے ہیں
(الصلوة مثنی مثنى تشهد في كل ركعتين وتخشع وتضرع وتمسكن وتقنع يديك يقول ترفعها الى ربك مستقبلا ببطونهما وجهك وتقول يارب يارب من لم يفعل ذلك فهي كذا وكذا)
یعنی نماز نفل دو دورکعت ہے ہر دور کعت پر التحیات اور خضوع وزاری و تذلل ، پھر بعد سلام دونوں ہاتھ اپنے رب کی طرف اُٹھا اور ہتھیلیاں چہرے کے مقابل رکھ کر عرض کراے میرے رب اے رب میرے جو ایسا نہ کرے تو وہ نماز چنین و چناں یعنی ناقص ہے۔
(جامع الترندی ، ج 1 ، ص 151،50 مطبوعہ امین کمپنی کتب خانه رشیدیہ، دہلی )
مزید پڑھیں:عیدین کے بعد دعا مانگنے کا کیا حکم ہے؟
مطلب رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں مصرحاً ( واضح طور پر آیا ((فمن لم يفعل ذلك فهو خداجو)) جو ایسا نہ کرے اُس کی نماز میں نقصان ہے۔
( مسند احمد بن قبل ، ج 4، ص 167 مطبوعہ دار الفکر، بیروت )
پس بحمد اللہ بشہادت قرآن وحدیث واقوال علماء ثابت ہوا کہ نماز پنجگانہ و عیدین و تہجد وغیر ہا ہر گونہ نماز کے بعد دعا مانگنا شرعاً جائز بلکہ مندوب و مرغوب ہے وہو المطلوب۔
ثانياً اقول وبالله التوفيق
دُعا بنص قرآن وحدیث و اجماع ائمہ قدیم وحدیث اعظم مندوبات شرع سے ہے اور اس کے مظان اجابت ( قبولیت کی جگہوں) کی تحری ( تلاش) مسنون و محبوب ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
هنالك دعازکریا ربه
ترجمہ: حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں اپنے رب سے دعا کی۔ حدیث میں ہے حضور پر نو رسید عالم صلی اللہتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں
(ان لربكم في ايام دهركم نفحات فتعرضوا له لعله ان يصيبكم نفحة منها فلا تشقون بعدها ابدا)
بیشک تمہارے رب کے لئے تمھارے زمانے کے دنوں میں کچھ وقت عطا و بخشش و تجلی و کرم وجود کے ہیں تو انہیں پانے کی تدبیر کرو شاید ان میں سے کوئی وقت تمہیں مل جائے تو پھر کبھی بدبختی تمہار بدبختی تمہارے پاس نہ آئے ۔ (اسم الکبیر، ج 19 ہیں 234 مکتبہ فیصلیہ، بیروت) اور خود حدیث نے اُن اوقات سے ایک وقت اجتماع مسلمین کا نشان دیا کہ ایک گروہ مسلمانان جمع ہو کر دعا مانگے کچھ عرض کریں کچھ آمین کہیں ۔ کتاب المستدرک علی البخاری ومسلم میں ہے (( عن حبیب بن مسلمة الفهرى رضى الله تعالى عنه وكان مجاب الدعوة قال سمعت رسول الله يقول لا يجتمع ملؤ فيدعو بعضهم يؤمن بعضعم الا اجابهم الله)) يعني حبيب بن مسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کہ مستجاب الدعوات تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضور پرنورسید عالم صلی الہ علی علیہ وسلم کو فر ماتے سنا کہ کوئی گروہ جمع نہ ہو گا کہ ان بعض دعا کریں بعض آمین کہیں ، مگر یہ کہ اللہ عز و جل اُن کی دعا قبول فرمائیگا۔
(المستدرک علی الحسین ، ج 3، ص 347، دار الفکر، بیروت)
علماء نے مجمع مسلمان کو اوقات اجابت سے شمار کیا۔ حصن حصین میں ہے ” و اجتماع المسلمین یعنی مسلمین کا اوقات اجابت سے ہونا حدیث صحاح ستہ سے مستفاد ہے۔ حسن حسین میں 23 مطبوعہ الفضل المطابع لکھنا بند) علی قاری شرح میں فرماتے ہیں۔ ثم كل ما يكون الاجتماع فيه اكثر كالجمعة والعيدين وعرفة يتوقع فيه رجاءالاجابة اظهر “ یعنی جس قدر مجمع کثیر ہوگا جیسے جمع وعید بین وعرفات میں، اسی قدر امید اجابت ظاہر تر ہوگی۔ مرزنشین شرح حصن حصین) فقیر غفر اللہ کہتا ہے پھر دُعائے نماز پر اقتصار ہرگز شرعاً مطلوب نہیں بلکہ اس کے خلاف کی طلب ثابت ، خود حدیث سے گزرا حضور پرنورسید یوم النشور صل اللہ تعالی علیہ سلم نے ہر دو رکعت نفل کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعامانگنے کا حکم دیا اور جو ایسانہ کرے اس کی نماز کو ناقص بتایا، حالانکہ نماز میں دعائیں ہو چکیں اور وہ وقت چار بار آیا جوانتہائی درجہ قرب الہی کا ہے یعنی سجود جس میں با تخصیص حکم دعا تھا۔ حضور پر نو رسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ) (اقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فأكثروا
الدعاء )) سب سے زیادہ قرب بندے کو اپنے رب سے حالت سجود میں ہوتا ہے تو اس میں دعا کی کثرت کرو۔
(سنن النسائی، ج 1، ص 170 171 ، مطبوعہ نور محمد کارخانه تجارت کتب، کراچی)
مزید پڑھیں:نماز عیدین پختہ چھت دار مسجد میں پڑھنا کیسا؟
بلکہ اگر سوال نہ بھی ہوں تو تسبیح کہ سجود میں ہوتی ہے خود دعا ہے کہ وہ ذکر ہے اور ہر ذکر دعا۔ مولانا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں کل ذکر دعاء “ ترجمہ: ہر ذکر دعا ہے۔
(مرقاۃ شرح مشکوة ج 5 ص 112 مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان)
تو با نکہ ایسے قرب اتم کے وقت میں نماز میں دعا ئیں ہو چکیں پھر بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اُن پر قناعت پسند نہ فرمائی اور بعد سلام پھر دُعا کی تاکید شدید کی۔ علاوہ بریں نماز میں آدمی ہر قسم کی دعا نہیں مانگ سکتا۔۔ اور حاجت ہر قسم کی اپنے رب جل وعلا سے مانگا چاہے اور طلب میں مظنه اجابت کی تحری ( قبولیت کے وقت کی تلاش کا حکم اور یہ وقت بحکم احادیث اعلیٰ مظان اجابت سے تو بلا شبہ مجمع عیدین میں نماز دعا، خاص اذن حدیث وارشاد شرع سے ثابت ہوئی اور حکم فتعرضوا لها کی تکمیل ٹھہری و ہو المقصود۔
ثم اقول
اگر مجمع عیدین کے لئے شرع میں کوئی خصوصیت نہ آتی تو اس عموم میں دخول ثابت تھا نہ کہ احادیث نے اس کی خصوصیت عظیم ارشاد فرمائی اور اُس میں دُعا پر نہایت تحریص و ترغیب آئی ( بہت زیادہ رغبت دلائی گئی) یہاں تک کہ حضور پر نور سید المرسلین صلی لہ تعالی علیہ وسلم اس زمانہ خیر وصلاح میں کہ فتنہ و فساد سے یکسر پاک ومنزہ تھا حکم دیتے کہ عیدین میں کنواریاں اور پردہ نشین خاتو نیں باہر نکلیں اور مسلمانوں کی دعامیں شریک ہوں حتی کہ حائض عورتوںکو کم ہوتا ہے مصلےسے الگ بیٹھیں اور اس دن کی دعا میں شریک ہو جائیں حضو اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں
( تخرج العوائق وذوات الخدور والحيض ويعتزل الحيض المصلى ويشهدن الخير ودعوة المسلمين)
ترجمہ: نو جوان کنواریاں اور پردہ والیاں اور حائض سب عیدگاہ کو جائیں اور حیض والیاں عید گاہ سے الگ بیٹھیں اور اس بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں۔
(صحیح البخاری ، ج 1 ص 134 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)
امام بہیقی اور ابوالشیخ ابن جہان کتاب الثواب میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہتعالی ہم سے راوی (انه سمع رسول اللہ صلی الله تعالى عليه وسلم يقول اذا كانت غداة الفطر بعث الله عزوجل الملئكة في كل بلد ( وذكر الحديث الى ان قال) فاذا رزوا الي مصلاهم فيقول الله عز وجل (وساق الحديث الى ان (قال) ويقول يا عبادي سلوني فوعزتي وجلالي لاتسئلوني اليوم شيئا في جمعكم لأخرتكم الاعطيتكم ولا لدنياكم الانظرت لكم، فوعزتي لاسترن عليكم عثراتكم مار اقبتمولي وعزتي وجلالي لا الخزيكم ولا فضحكم بين اصحاب الحدود وانصرفوا مغفورا لكم قد ارضيتموني ورضيت علكم )
یعنی حضور پرنورسید یوم النشور علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے فرمایا : جب عید کی صبح ہوتی ہے مولی سبحنہ تعالیٰ ہر شہر میں فرشتے بھیجتا ہے ( اس کے بعد حدیث میں فرشتوں کا شہر کے ہرنا کہ پر کھڑا ہونا اور مسلمانوں کو عید گاہ کی طرف بلاتا بیان فرمایا ، پھر ارشاد ہوا جب مسلمان عید گاہ کی طرف میدان میں آتے ہیں ( مولی سبحنہ تعالیٰ فرشتوں سے یوں فرماتا ہے اور ملائکہ اس سے یوں عرض کرتے ہیں) پھر فرما یارب تبارک و تعالیٰ مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندو! مانگو کہ قسم مجھے اپنی عزت و جلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کے لئے مانگو گے میں تمہیں عطا فرماؤں گا اور جو کچھ دنیا کا سوال کرو گے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا (یعنی دنیا کی چیز میں خیر وشر دونوں کو متحمل ہیں اور آدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کوشر، شرکوخیرسمجھ لیتا ہے، اور اللہ جانتاہے اور تم نہیں جانتے لہذا دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے اس میں بکمال رحمت، نظر فرمائی جائے گی، اگر وہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطا ہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یا دعا روز قیامت کے لئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے جب تک تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرماؤں گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کروں گا پلٹ جاؤ مغفرت پائے ہوئے ، بیشک تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے خوشنود ہوا ۔
(شعب الایمان ، 3 ، ص 336 337 – مطبوعہ دار الكتب المعلمية، بيروت)
فقیر غفرلہ اپنی القدیر کہتا ہے اس کلام مبارک کا اول یا عبادی سلونی ہے یعنی میرے بندو! مجھ سے دعا کرو، اور آخر انصرفوا مغفورا لکم گھروں کو پلٹ جاؤ تمہاری مغفرت ہوئی۔ تو ظاہر ہوا کہ یہ ارشاد بعد ختم نماز ہوتا ہے ختم نماز سے پہلے گھروں کو واپس جانے کا حکم ہرگز نہ ہوگا تو اس حدیث سے مستفاد کہ خود رب العزت جل وعلا بعد نماز عید مسلمانوں سے دُعا کا تقاضا فرماتا ہے، پھر وائے بد بختی اُس کی جو ایسے وقت مسلمانوں کو اپنے رب کے حضور دعا سے روکے نسأل الله العفو والعافيةامین، ترجمہ : ہم اللہ سے فضل و بخشش طلب کرتے ہیں۔ آمین۔
مزید پڑھیں:کیا سنت مؤکدہ کو ترک کرنا گناہ ہے؟
ثالثا اقول وبالله التوفيق
حضور پر نور سید المرسلین صلی الہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں
(اذا جلس احدكم في مجلس فلا يبرحن منه حتى يقول ثلث مرات سبحتك اللهم ربنا وبحمدك لا اله الا انت اغفر لي وتب على فان كان اتي خيرا كان كالطابع عليه وان كان مجلس لغو كان كفارة لما كان في ذلك المجلس ))
ترجمہ: جب تم میں کوئی کسی جلسے میں بیٹھے تو زنہار وہاں سے نہ ہٹے جب تک تین بار یہ دعا نہ کرلے پا کی ہے تجھے اے رب ہمارے، اور تیری تعریف بجالاتا ہوں، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں میرے گناہ بخش اور مجھے تو بہ دے۔ کہ اگر اس جلسے میں اس نے کوئی نیک بات کہی ہے تو یہ دعا اس پر مہرہو جائے گی اور اگر وہ جلسہ لغو تھا جو کچھ اس میں گزرا یہ دعا اس کا کفارہ ہو جائیگی۔
(استدرک علی الحسین ج 1 ص 37 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
اس حدیث صحیح مشہور علی اصول المحد ثین میں جسے امام ترمذی نے حسن صحیح اور حاکم نے بر شرط مسلم صحیح اور منذری نے جید الاسانید کہا، حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عام ارشاد و ہدایت قولی و فعلی فرماتے ہیں کہ آدمی کوئی جلسہ کرے اُس سے اُٹھتے وقت یہ دعا ضرور کرنی چاہئے کہ اگر جلسہ خیر کا تھا تو وہ نیکی قیامت تک سر بمہر محفوظ رہے گی اور لغو تھا تو وہ لغو باذن الله محو ہو جائے گا، تو لفظ و معنی دونوں کی رُو سے ثابت ہوا کہ ہر مسلمان کو ہر نماز کے بعد بھی اس دُعا کی طرف اشارہ فرمایا گیا جہت لفظ سے تو یوں کہ مجلس نکرہ سیاق شرط میں واقع ہے عام ہوا۔۔ تو قطعاً تمام صلوات فریضہ و واجبہ و نافلہ کے جلسے اس حکم میں داخل اور ادعائے تخصیص بے مخصص محض مردود و باطل۔
اور جہت معنی سے یوں کہ جلسہ خیر سے اُٹھتے وقت یہ دعا کرنا اُس خیر کے نگاہداشت کے لئے ہے تو خیر جس قدرا کبر و اعظم اسی قدر اس کا رر اس کا حفظ ضروری واہم، اور بلاشبہ خیر نماز سے سب چیزوں سے افضل واعلیٰ تو ہر نماز کے بعد اس دعا کا مانگنامو کد تر ہوا، یا رب ، مگر (کیا) نماز عیدین نماز نہیں یا اس کے حفظ کے جانب نیاز نہیں یا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ ہمارا یہ ارشاد ماورائے عیدین یا ما سوائے نماز میں ہے۔۔
بلکہ حدیث پاک میں ہے ) (عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت ان رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم كان اذا جلس مجلساً او صلى تكلم بكلمات و سألته عائشة عن الكلمات فقال ان تكلم بخير كان طابعا عليهن الى يوم القيمة وان تكلم بشر كان كفارة له سبحنك اللهم وبحمدك استغفرك واتوب اليك)) یعنی ام المومنین صدیقہ رضی اللہتعالی عنہافرماتی ہیں حضور پر نو رسید عالم صلی اللہتعالی علیہ سلام جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے کچھ کلمات فرماتے ، ام المومنین نے وہ کلمات پُو چھے، فرمایا وہ ایسے ہیں کہ اگر اس جلسہ میں کوئی نیک بات کہی ہے تو یہ قیامت تک اس پر مہر ہو جائیں گے اور بُری کہی ہے تو کفارہ الہی میں تیری تسبیح وحمد بجالاتا ہوں اور تجھ سےاستغفار و توبہ کرتا ہوں۔
(سنن النسائی ، ج 1 ، ص 197 ، مطبوعہ نور محمد کارخانه تجارت کتب، کراچی)
پس محمد اللہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہو گیا کہ نماز عیدین کے بعد دعامانگنے کی خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ سلم نے تاکید فرمائی لفظ لا يبرحن بنون تا کیدار شاد ہوا بلکہ انصاف کیجئے تو حدیث ام المومنین صلی اللہ تعالی علی وجہ الکریم علیہ سلم خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ سلم کا بعد نماز عیدین دعا مانگنا بتا رہی ہے کہ صلی زیر اذاداخل تو ہر صورت نماز کو عام و شامل اور منجملہ صور نماز عیدین، تو حکم مذکور انہیں بھی متناول ( شامل )، پس یہ حدیث جلیل محمد اللہ خاص جزئیہ کی تصریح کامل۔
رابعاً اقول وبالله التوفيق
ان سب سے قطع نظر ر کیجئے تو دعا مطلقا اعظم مندوبات دینی وا بات دینیه و اجعل مطلوبات شرعیہ سے ہے کہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں بے تقید وقت و تخصیص ہیئات مطلقاً اس کی اجازت دی اور اس کی طرف دعوت فرمائی اور اسکی تکثیر کی رغبت دلائی اور اس کے ترک پر وعید آئی۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے و قال ربكم ادعونی استجب لکم اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ اور فرماتا ہے واجیب دعوة الداع اذا دعان قبول کرتا ہوں دُعا کرنے والے کی دُعا جب مجھے پکارے۔ حدیث قدسی میں فرماتا ہے
( انا عِندَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِی))
میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں جب مجھ سے دعا کرے۔
(صحیح مسلم ، ج 2 میں 341 نور محمد اصح المطابق، کراچی)
مزید پڑھیں:نماز عیدین کے بعد دُعا مانگنا کہاں سے ثابت ہے؟
پھر امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے دعا کرنے کی ترغیب پر متعدد احادیث بیان فرمائیں جن میں سے ایک یہ ہے ) رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (( عليكم عباد الله بالدعاء)) خدا کے بندو دعا کو لازم پکڑو۔
(ترندی، ج 2 ص 193 میں کمپنی ویلی پھر امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں )
اللہ اللہ کیا ستم جری ہیں وہ لوگ کہ قرآن وحدیث کی ایسی عام مطلق اجازتوں کے بعد خواہی نخواهی بندگان خدا کو اس کی یا دو دعا سے روکتے ہیں حالانکہ اس نے ہرگز اس دعا سے ممانعت نہ فرمائی ۔
﴾قُلْ اللَّهُ أَذِنَ لَكُمُ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ ﴿
ترجمہ: اے حبیب! ان سے پوچھئے کہ اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی ہے یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ پس بحمد اللہ آفتاب روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ دعائے مذکور فی السوال قطعاً جائز ومندوب، اور اس سے ممانعت محض بے اصل و باطل و معیوب ۔
READ MORE  ثبوت رؤیت میں اختلاف ہو جائے تو نماز کا کیا حکم؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top