جو نماز میں قرآن ترتیل سے نہ پڑھے اس کی امامت جائز یا نا جائز؟
:سوال
جو نماز میں قرآن ترتیل سے نہ پڑھے اس کی امامت جائز یا نا جائز ؟
:جواب
 ترتیل کی تین حدیں ہیں ہر حد اعلیٰ میں اس کے بعد کی حد ما خوز وملحوظ ہے۔
:حداول
یہ کہ قر آن عظیم ٹھہر ٹھہر کر بآ ہستگی تلاوت کرے کہ سامع چاہے تو ہر کلمے کو جدا جدا گن سکے۔ الفاظ بہ تفخیم ادا ہوں حروف کو ان کی صفات شدت و جہر و امثالہا کے حقوق پورے دئے جائیں اظہار واخفا تفخیم وترقیق و غیر با محسنات کا لحاظ رکھا جائے یہ مسنون ہے اور اسکا ترک مکروہ و نا پسند اور اسکا اہتمام فرائض و واجبات میں تراویح (سےزیادہ) اور تراویح میں نفل مطلق سے زیادہ۔
:دوم
مد و وقف و وصل کے ضروریات اپنے مواقع پر ادا ہوں ۔ کھڑے پڑے کا لحاظ رہے۔ حروف مذکورہ جن کے قبل نون یا میم ہو ان کے بعد غنہ نہ نکلے انا کنا کو ان کن یا اناں کناں نہ پڑھا جائے ۔ باوجیم ساکنین جن کے بعد”ت”ہو بشدت ادا کئے جائیں کہ پ اور چ کی آواز نہ دیں جہاں جلدی ابتر اور تچتنبوکواپتر اور تچتنبوا پڑھتے ہیں۔ حروف مطبقہ کا کسرہ ضمہ کی طرف مائل نہ ہونے پائے۔ ت وط کے اجتماع میں مثلا” يستطيعون”” لا تطع ” بے خیالی کرنے والوں سے حرف تا بھی مشابہ طا ادا ہوتا ہے۔ بلکہ بعض سے ”عتو ”میں بھی بوجہ تفخیم عین وضمہ تا آواز مشابہ طا پیدا ہوتی ہے۔
 با لجملہ کوئی حرف و حرکت بے محل دوسرے کی شان اخذ نہ کرے نہ کوئی حرف چھوٹ جائے نہ کوئی اجنبی پیدا ہو نہ محدودو مقصود ہو نہ ممدود۔واجب و اجماعی مد متصل ہے منفصل کا ترک جائز ولہذا اس کا نام ہی مر جائز رکھا گیا اور جس حرف مدہ کے بعد سکون لازم ہو جیسے ضالین الم وہاں بھی مدبالا جماع واجب اور جس کے بعد سکون عارض، ہوجیسے العالمين، الرحيم، العباديوقنون بحالت وقف یاقال اللهم بحالت اد غام، وہاں مدوقصر( ترک مد ) دونوں جائز اس قدر ترتیل فرض وواجب ہے اور اس کا ترک گنہگار مگر فرائض نماز سے نہیں کہ ترک مفسد صلاۃ ہو۔جو شخص اس قسم ترتیل کی مخالفت کرے اس کی امامت نہ چاہئے مگر نماز ہو جائے گی اگر چہ بکر اہت۔
:سوم
جو حروف و حرکات کی تصحیح!ع ،ت ط ،ث س ص،ح ہ،ذزظ و غیر ہا میں تمیز کرے غرض ہر نقص و زیادت و تبدیل سے کہ مفید معنی واحتراز یہ بھی فرض ہے اور علی التفصیل فرائض نماز سے بھی ہے کہ اس کا ترک مفسد نماز ہے جو شخص قادرہے اور بے خیالی یا بے پروائی یا جلدی کے باعث اسے چھوڑتا ہے یا سیکھے تو آجائے مگر نہیں سیکھتا ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیک اس کی نماز باطل اور اس کی امامت کے بطلان اور اسکے پیچھے اور وں کی نماز فاسد ہونے میں تو کلام ہی نہیں۔
علمائے متاخرین نے بنظر تیسیر ( آسانی کی طرف نظر کرتے ہوئے ) جو تو سیعیں کیں ، وہ عند التحقیق صورت لغزش و خطا سے متعلق ہیں کہ صحیح جانتا ہے اور صحیح پڑھ سکتا ہے مگر زبان سے بہک کر غلط ادا ہو گیا نہ کہ معاذ اللہ فتویٰ بے پروائی واجازت غلط خوانی و ترک تعلم و کوشش، جیسا کہ عوام زمانہ بلکہ اکثر خواص میں بھی وبائے عالمگیر کی طرح پھیلا ہوا ہے اور نہ بھی سہی تو وہ عوام کی نمازیں ہیں نہ کہ غلط خوانوں کو امام بنانے کے لئے وہی علماء جووہ توسیعات لکھتے ہیں بطلان امامت کی تصریح فرماتے ہیں۔
اور جو قادر ہی نہیں کوشش کرتا ہے محنت کرتا ہے مگر نہیں نکلتا جیسے کچی زبان والے گنوار کہ کاف ذال کو جیم پڑھیں۔ صحیح مذہب میں صحیح خواں کی نماز ان کے پیچھے بھی نہیں ہوسکتی تفصیل اس مسئلہ جلیلہ کی جس سے آج کل نہ صرف عوام بلکہ بہ بہت علماء و مشائخ تک غافل ہیں ۔ فقیر غفر اللہ تعالی لہ کے فتاوی میں ہے۔
READ MORE  اگر چاول سے صدقہ فطر دیں، تو کتنی مقدار دینی پڑے گی؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top