امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت اور قول کو باقی صحابہ کے اقوال پر ترجیم کیوں دیتے ہیں؟
سوال
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت اور قول کو باقی صحابہ کے اقوال پر ترجیم کیوں دیتے ہیں؟
جواب
حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
” تمسكوا بعهد ابن ام عبد (ابن مسعود)
ترجمه ابن مسعود کی باتوں سے تمسک کیا کرو۔
مرقاۃ میں ہے
اس لئے ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ان کی روایت و قول کو خلفائے اربعہ کے بعد سب صحابہ قول پر ترجیح دیتے ہیں”
یہ وہی ابن مسعود ہیں جنہیں حذیفہ رضی اللہ تعالی من صاحب میز رسول صل الله علی علیہ سلم فرماتے
ان امشبه الناس دلا و سمتا وهديا برسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم لا بن ام عبد ”
بیشک چال ڈھال روش میں سب سے زیادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مشابہ عبداللہ بن مسعود ہیں رضی اللہ تعالی عنہ
یہ وہی ابن مسعود ہیں جنہیں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعلی فرماتے
کیف ملئ علما “
ایک گٹھری ہیں علم سے بھری ہوئی ) ۔
نہایت یہ کہ حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
“رضیت لامتي مارضى لها ابن ام عبد
ترجمہ: میں نے اپنی اُمت کے لئے پسند فرمالیا جو کچھ عبداللہ بن مسعود اس کے لئے پسند کرے۔
لا جرم ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیک خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالی علیم کے بعد وہ جناب تمام صحابہ کرام علیم الرضوان سے علم و فقاہت میں زائد ہیں،
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے
” هو عند المتنا افقه الصحابة بعد الخلفاء الأربعة
ترجمہ: ہمارے ائمہ کے نزدیک ابن مسعود خلفاء اربعہ کے بعد سب سے زیادہ فقیہ ہیں۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 592

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top