...
کیا حدیث ضعیف پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ کوئی صحیح حدیث بھی موجود ہو؟

کیا حدیث ضعیف پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ کوئی صحیح حدیث بھی موجود ہو؟

سوال
زید کہتا ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث بھی موجود ہو؟
جواب
بذریعہ حدیث ضعیف کسی فعل کے لئے محل فضائل میں استحباب یا موضع احتیاط میں حکم تنز و ( کسی کام سے بچنے سے کا حکم ) ثابت کرنے کے لئے زنہار زنہار ( ہرگز ہرگز ) اصلا اس کی حاجت نہیں کہ بالخصوص اس فعل معین کے باب میں کوئی حدیث صحیح بھی وارد ہوئی ہو، بلکہ یقینا قطعاً صرف ضعیف ہی کا ورودان احکام استحباب وتنزہ کے لئے ذریعہ کافیہ ہے، سورج) افادات سابقہ کو جس نے ذرا بھی بگوش ہوش ( ہوش کے کانوں سے ) استماع (سنا) کیا ہے اس پر یہ امرشمس ( سورج ) وامس (گذری کل) کی طرح واضح و روشن – مگر از انجا کہ مقام مقام افادہ ہے ایضاح حق ( حق کو واضح کرنے) کے لئے چند تنبیہات کا ذکر مستحسن اول کلمات علمائے کرام میں با آنکہ طبقہۂ فطر پی اس جوش و کثرت سے آئے ، اس تقیید بعید ( دور کی قید ) کا کہیں نشان نہیں تو خواهی نخواهی مطلق کو از پیش خویش مقید کر لینا کیونکر قابل قبول ۔
ثانیا بلکہ ارشادات علما صراحت اس کے خلاف، مثلاً عبارت اذکار و غیر ہا خصوصاً عبارت امام ابن الہمام جونص تصریح ہے کہ ثبوت استحباب کو ضعیف حدیث کافی۔
ثالثا علمائے فقہ وحدیث کا عملدرآمد قدیم وحدیث اس قید کے بطلان پر شاہد عدل ( عادل گواہ ہے ) ، جابجا انہوں نے احادیث ضعیفہ سے ایسے امور میں استدلال فرمایا ہے جن میں حدیث صحیح اصلا مروی نہیں۔
مثلاً نماز نصف شعبان کی نسبت علی قاری علیہ الرحمہ ) کا ضعیف حدیث سے استدلال کرنا)۔
(اسی طرح) بدھ کو ناخن تراشنے کی نسبت خود نسیم الریاض و طحاوی کے اقوال زیور گوش سامعین ہوئے۔
امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے یہاں اس کی دس مثالیں ارشاد فرمائیں اور ارشاد فرمایا یہ دس تو یہیں موجود ہیں اور خوف اطالت (طوالت کا خوف ) نہ ہو تو سو دو سو ایک ادنی نظر میں جمع ہو سکتے ہیں۔
خامساً اقول وباللہ التوفیق ( میں اللہ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ) اس شرط زائد کا اضافہ اصل مسئلہ اجماعیہ کو محض لغو و مہمل کر دے گا کہ اب حاصل یہ ٹھہرے گا کہ احکام میں تو مقتضائے حدیث ضعیف پر کار بندی اصلا جائز نہیں اگر چہ وہاں حدیث صحیح موجود ہو اور ان کے غیر میں بحالت موجود صیح ( صحیح کی موجودگی میں ) صحیح ورنہ قبیح ۔
اگر صحیح نہ آتی ضعیف بیکار تھی آتی تو وہی کفایت کرتی بہر حال اس کا وجود و عدم یکساں ( ہونا نہ ہونا برابر ) پھر معمول به ہونا کہاں!
اور شک نہیں کہ خود صحیح کے ہوتے ضعیف سے اخذ ( استدلال ) اور اس کی طرف اضافت چہ معنی کیا معنی رکھتی ہے )،

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.