سوم، چہلم، برسی، عرس اور گیارہویں
:سوال
دیو بندی فاتحہ اور نیاز کے حرام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ تم نے اس کے لئے دن مقرر کر لئے ہیں جیسا کہ سوم ، چہلم، برسی، عرس اور گیارہویں وغیرہ لہذا یہ نا جائز و بدعت ہیں۔
: جواب
توقیت یعنی کسی کام کے لئے وقت مقرر کرنے کی دو صورتیں ہیں: (1) شرعی (2) عادی۔
شرعی یہ کہ شریعت مطہرہ نے کسی کام کے لئے کوئی وقت مقرر فرما دیا ہے کہ (1) اس کے علاوہ وقت میں وہ ہو ہی نہیں سکتا، اور اگر کریں تو وہ عمل شرعی ادانہ ہو گا، جیسے قربانی کے لئے ایام محر۔ (2) یا یہ کہ اس وقت سے اس عمل کو مقدم یا مؤخر کرنا نا جائز ہو، جیسے احرام حج کے لئے حرمت والے مہینے (شوال، ذی قعدہ، ذوالحجہ ) ۔
یا یہ کہ اس وقت میں جو ثواب ہو وہ دوسرے وقت میں نہ ملے ، جیسے نماز عشاء کے تہائی رات۔
عادی یہ کہ شریعت کی جانب سے کوئی قید نہیں جب چاہیں عمل میں لائیں لیکن حدث ( کام ہونے) کے لئے زمانہ ضروری ہے اور زمانہ غیر معین میں وقوع محال عقلی ( عقلاً محال ) ہے، اس لئے کہ وجود اور تعین ایک دوسرے کے مساوق ( ساتھ ساتھ ) ہیں، تو تعین سے چارہ نہیں، تو ایسے مقام میں راہ یہ نہیں کہ جائز کہنے والے سے خصوصیت کا ثبوت مانگیں بلکہ راہ یہ ہوگی کہ اس فرد خاص سے متعلق ممانعت کی صراحت شریعت سے نکالیں۔
پھر اگر اس وقت معین کی ذات میں خود کوئی ترجیح دینے والی چیز موجود ہو جو اسے اختیار کرنے کی باعث ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ جب تمام اوقات یکساں اور برابر ہوں تو صاحب اختیار کا ارادہ ترجیح دینے کے لئے کافی ہے، جیسے دو جام یکساں ہیں اور پیاسا اپنے ارادے سے کسی ایک کو ترجیح دے کر اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح دور اہیں یکساں ہیں اور چلنے والا کسی ایک کو اختیار کر لیتا ہے۔
پہلی صورت میں تو مصلحت خود عیاں ہے، اور دوسری صورت میں کم از کم اتنا ضرور ہے کہ اس کو معین کر لینے سے یاددہانی اور آگاہی ہوگی اور یہ ٹالنے اور فوت کر دینے سے مانع ہوگی ، ہر عقل والے کا وجدان خود گواہ ہے کہ جب کسی کام کے لئے کوئی وقت معین رکھتے ہیں تو جب وقت آتا ہے وہ کام یاد آ جاتا ہے، ورنہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ فوت ہو جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ذاکرین، شاغلین ، عابدین اپنے ذکر شغل اور عبادت کے لئے اوقات معین کر لیتے ہیں کسی نے نماز صبح سے پہلے سو بار کہ طیبہ پڑھنا اپنے ذمہ کر لیا، کسی نے نماز عشاء کے بعد سو بار درود پڑھنا مقرر کر لیا، اگر اس تعیین توقیت کو تو قیت شرعی کی تینوں قسموں سے نہ جانیں تو شریعت کی جانب سے ان پر ہرگز کوئی عتاب نہیں۔
جان برادر ! اگر شاہ ولی اللہ کی القول
الجمیل امام الطائفہ کی صراط مستقیم اور ان کے علاوہ اس طائفہ کے اکابر وعمائد ( قائدین) کی تصنیف کردہ اس فن کی کتابیں دیکھو تو ان میں از خود لازم کئے ہوئے تعینات سے بہت سی چیزیں پاؤ گے جن میں شریعت کی جانب سے تعیین و توقیت کا کوئی نام ونشان بھی نہیں ہے، دور کیوں جائیے اور تعیین ایام اوقات کی بات کیوں کیجئے ؟ وہاں تو دسیوں اعمال و اشغال اور ہیات طرق ایجادی اور اختراعی ایسے موجود ہیں جن کا قرون سابقہ (سابقہ زمانوں) میں نہ کوئی نام و نشان تھا ، نہ ذکر خبر ۔ ان حضرات کو ان کی ایجاد و ابتداع کا خود اقرار ہے ۔ شاہ ولی اللہ القول الجمیل میں لکھتے ہیں۔ ہماری صحبت اور ہماری تعلیم آداب طریقت رسول اللہ صل اللہ تعالی علیہ وسلم تک متصل ہے اگر چہ ان آداب اور ان اشغال کی تعلیم حضور سے ثابت نہیں ۔
(القول الجمیل ہیں 173 ایچ ایم سعیدکمپنی، کراچی)
اس کے حاشیہ شفاء العلیل میں ہے ایسے امور کو مخالف شرع یا داخل بدعت سیئہ نہ سمجھنا چاہئے جیسا کہ بعضے کم فہم سمجھتے ہیں
(شفاء العلیل ترجمه القول الجمیل ص 51 ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی)
سبحان اللہ ا یہ لوگ جو تمہارے قاعدے کے مطابق صراحة احداث فی الدین اور کھلی ہوئی بدعت جاری کرنے کے مرتکب ہیں، اور بلاشبہ ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں جن کی قرون سابقہ میں کوئی خبر نہیں، وہ تو گمراہ اور بدعتی نہ ہوں بلکہ ویسے ہی امام و مقتداء اور عرفاء و علماو ر ہیں ، دوسرے صرف اتنے جرم پر کہ انہوں نے شریعت میں ثابت چند پسندیدہ امور کو یکجا کر دیا اور ان کو عمل میں لانے کے لئے شریعت میں جائز اوقات میں سے ایک وقت معین کر دیا ، معاذ اللہ گمراہ و بدعتی ہو جائیں۔
اللہ انصاف ! اس بے جا تحکم اور نارواز بردستی کو کیا کہا جائے؟ شاید شریعت تمہارے گھر کا کاروبار ہے کہ جیسے چاہوالٹ پھیر کرتے رہو، ہوشیار ، ہوشیار اے طالبان حق ان کو ، ان کی سرکشی اور زیادتی میں چھوڑ اور آثار و احادیث کی جانب متوجہ ہوتا کہ ہم کچھ تعینات عادیہ تجھے سنائیں :
اس قبیل سے ہے جو حدیث میں آیا کہ حضور پر نو صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے شہدائے احد کی زیارت کے لئے سر سال کا وقت مقرر فرما لیا تھا۔
اور سنیچر (ہفتہ ) کے دن مسجد قبا میں تشریف لانا، جیسا کہ صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے۔
(صحیح مسلم ، ج 1 ، ص 448 ، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
اور شکر رسالت کے لئے دوشنبہ ( پیر) کا روزہ ، جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔
(صحیح مسلم، ج 1، ص 448، قدیمی کتب خانہ کراچی)
اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے دینی مشاورت کے لئے وقت صبح و شام کی تعیین، جیسا کہ صحیح بخاری میں ام
المؤمنين صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے۔
صحیح البخاری ، ج 1، ص 552 ، قدیمی کتب خانہ کراچی)
اور سفر جہاد شروع کرنے کے لئے پنجشنبہ (جمعرات) کی تعیین، جیسا کہ اسی صحیح بخاری میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
صحیح البخاری ، ج 1 ص 414، قدیمی کتب خانہ کراچی)
(6) اور طلب علم کے لئے دوشنبہ ( پیر) کی تعیین، جیسا کہ اب شیخ ابن حبان اور دیلمی نے بسند صالح حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت کیا ہے۔
الفردوس بماثور الخطاب ، ج 1 میں 78 ، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے وعظ و تذکیر کے لئے پنجشنبہ (جمعرات) کا دن مقرر کیا، جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابو وائل سے مروی ہے۔
(صحیح البخاری ، ج 1 میں 16 قدیمی کتب خانہ کراچی)
اور علماء نے سبق شروع کرنے کے لئے بدھ کا دن رکھا ، جیسا کہ امام برہان الاسلام زرنوجی کی تعلیم المتعلم میں ہے، انہوں نے اپنے استاد امام برہان الدین مرغینانی صاحب ہدایہ سے اس کی حکایت فرمائی اور کہا کہ اسی طرح امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے۔
تعلیم المتعلم میں 43 مطبع علمی ، دہلی )
یہ سب تو قیمت عادی کے باب سے ہیں، حاشا کہ سید سرداراں علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد یہ ہو کہ انتہائے سال کے علاوہ کسی دوسرے وقت کی زیارت ، زیارت نہیں یا جائز نہیں، یا اس دن بندہ نوازی، امت پروری اور قدم مبارک کی خاک پاسے مزارات شہداء کرام کو شرف بخشنے پر جو اجر عظیم اس شاہ عالم پناہ صلی اللہ تعالی علیہ سلم کو عطا ہو گا وہ دوسرے دن نہ ملے گا ، اسی طرح حضرت ابن مسعود کا مقصود یہ نہ تھا کہ پنجشنبہ کے علاوہ کسی اور دن وعظ نہیں ، یا دوسرے دن اس کا جواز نہیں ، یا دوسرے دن یا جر فوت ہو جائے گا، یا شرع مطہر نے یہ تعیین فرمائی تھی، ہرگز نہیں۔ بلکہ یہی ایک عادت مقرر کر لی تھی تا کہ ہر ہفتہ میں مسلمانوں کی تذکیر کا کام انجام دیتے رہیں، اور دن متعین ہونے کی وجہ سے طالبانِ خیر آسانی سے جمع ہو جائیں، اسی طرح باقی امور کو قیاس کرو۔ ہاں ان میں سے بعض میں کوئی الگ مرجح ( ترجیح دینے والا) بھی موجود ہے، جیسے دوشنبہ کے دن بعثت کا وقوع اور علم نبوت کا حصول، اور پنجشنبہ کوصبح سویرے نکلنے میں عظیم برکت کا وجود، اور چہارشنبہ (بدھ) کو شروع کرنے میں تکمیل کی امید، کہ یہاں ایک حدیث ذکر کرتے ہیں کہ جو کام بھی چہار شنبہ کو شروع کیا جائے وہ پورا ہو ۔
(“ تعلیم المتعلم ص 43 مطبع علمی دہلی )
اور بعض دیگر میں یہی ترجیح ارادی ہے جس میں کم از کم یاد دہانی اور آسانی کی مصلحت ضرور کارفرما ہے۔ اس باب سے سوم ، چہلم ، چھ ماہ اور انتہائے سال کے تعینات جو لوگوں نے جاری کر رکھے ہیں۔ ان میں سے بعض میں کوئی خاص مصلحت بھی ہے اور بعض دیگر آسانی و یاد دہانی کے خیال سے رائج و معمول ہے، اور اصطلاح میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ یہی مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی ( جو امام الطانی طائفہ کے نسبی چچا علمی باپ اور طریق طریقت میں دادا تھے ) کا کلام سننے کے قابل ہے تفسیر عزیزی میں قول باری تعالی (و القمر اذا اتسق ) کے تحت فرماتے ہیں وارد ہے کہ مردہ اس حالت میں کسی ڈوبتے والے کی طرح فریادرسی کا منتظر ہوتا ہے اور اس وقت صدقے ، دعا ئیں اور فاتحہ اسے بہت کام آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ موت سے ایک سال تک ، خصوصاً چالیس دن تک اس طرح کی امداد میں بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔
(“ تفسیر عزیزی ، ص 206 ، لال کنواں ، دہلی)
زیادہ پر لطف بات یہ ہے کہ شاہ صاحب موصوف اپنے پیروں اور باپ دادا کا عرس پورے اہتمام سے کرتے تھے اور ان کے سامنے ان کی اجازت ہے، اور ان کے برقرار رکھنے سے درویشوں کی قبروں پر آدمیوں کا اجتماع ، فاتحہ خوانی اورکھانا وشیرینی کی تقسیم ہوتی تھی جیسا کہ سبھی اہل سجادہ میں جاری و ساری ہے۔
الحاصل حق یہ ہے کہ مذکورہ تخصیصات سبھی تعینات عادیہ سے ہیں جو ہر گز کسی طعن و ملامت کے قابل نہیں ۔ اتنی بات کو حرام و بدعت شنیعہ کہنا کھلی ہوئی جہالت اور قبیح خطا ہے۔
مولانا شاہ عبد العزیز صاحب کے بھائی شاہ رفع الدین دہلوی مرحوم نے اپنے فتوے میں کیا ہی عمدہ انصاف کی بات لکھی ہے ان کی عبارت یوں نقل کی گئی ہے: سوال: بزرگوں کی فاتحہ میں کھانوں کو خاص کرنا مثلا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی فاتحہ میں کھچڑا شاہ عبدالحق رحمہ اللہ علیہ کی فاتحہ میں تو شہ و غیر ذلک، یوں ہی کھانے والوں کو خاص کرنا، ان سب کا کیا حکم ہے؟ جواب : فاتحہ اور عام بلاشبہ مستحسن ہیں، اور تخصیص جو مخصص (خاص کرنے والے) کا فعل ہے وہ اس کے اختیار میں ہے ممانعت کا سبب نہیں ہو سکتا۔ یہ خاص کر لینے کی مثالیں سب عرف اور عادت کی قسم سے ہیں جو ابتداء میں خاص مصلحتوں اور خفی مناسبتوں کی وجہ سے رونما ہو ئیں پھر رفتہ رفتہ عام ہو گئیں الخ “۔
ثم اقول ( پھر میں کہتا ہوں بلکہ اگر یہاں خود کوئی دینی مصلحت نہ ہو تو بھی حرام نہیں ہوسکتا کیونکہ مصلحت نہ ہونے کا معنی یہ نہیں کہ مفسدہ (فاسد کرنے والی چیز موجود ہے کہ با عث انکار ہو جائے ورنہ مباح کہاں جائے گا ؟ ہاں جو عامی شخص اس تعیین عادی کو توقیت شرعی جانے اور گمان کرے کہ ان کے علاوہ دنوں میں ایصال ثواب ہوگا ہی نہیں ، یا جائز نہیں، یا ان ایام میں ثواب دیگر ایام سے زیادہ کامل و وافر ہے تو بلاشبہ وہ شخص غلط کار اور جاہل ہے اور اس گمان میں خطا کار اور صاحب باطل ہے۔ لیکن اتنا گمان اصل ایمان میں خلل نہیں لاتا ، نہ ہی کسی قطعی عذاب اور حتمی وعید کا سبب ہوتا ہے۔ اسی طرح جاہل عوام نے ایصال ثواب کے باب میں جو نا پسندیدہ امور پیدا کر لئے ہیں، جیسے نمائش، ناموری، مفاخرت ( باہم فخر کرنا )، مالدارو ںکو جمع کرنا محتاجوں کو منع کرنا، اور یہ کہ سوم میں ایک جماعت اکٹھی بیٹھتی ہے اور سب کے
سب بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہیں اور سننے کا فرض ترک کرتے ہیں، یہ سب ممنوع و ناروا مکروہ اور برا ہے۔
علماء کو چاہئے کہ ان زائد مفاسد پر سرزنش ( روک ٹوک) کریں نہ یہ کہ پوری بے لگامی اور زبان درازی سے اصل عمل ہی کو ختم کر ڈالیں ، جیسے بہت سے عوام نماز خصوصاً نوافل میں جنہیں تنہا ادا کرتے ہیں تعدیل ارکان وغیرہ کی عدم رعایت جیسے متعدد ممنوعات کے عادی ہیں، یہ حالت اس کو مستلزم نہیں کہ انہیں نماز ہی سے روک دیا جائے ، بلکہ ان بری عادات سے بچانا اور ڈرانا چاہئے اور نماز ادا کرنے کی تشویق ( شوق دلانا ) و ترغیب ہونی چاہئے۔
READ MORE  میت کو دفنانے کے بعد کفن کے اوپر پھولوں کی چادر ڈالنا کیسا؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top