التحیات میں شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنا کیسا ہے؟
:سوال
التحیات میں شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنا کیسا ہے؟
:جواب
 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فر ماتے ہیں” كان اذا جلس في الصلوة وضع كفه اليمنى على فخذه اليمنی وقبض اصابعه كلها واشار باصبعه التي تلى الابهام ”یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تشہد میں اپنا د بنا ہاتھ دینی ران پر رکھا اور سب انگلیاں بند کر کے انگوٹھے کے پاس انگلی سے اشارہ فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہاہی سے روایت ہے، فرماتے ہیں ” قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم الاشارة بالاصبع اشد على الشيطان من الحديد ”یعنی فرما یارسول اللہ صلی للہ تعالٰی علیہ وسلم نے انگلی سے اشارہ کرنا شیطان پر دھاردار ہتھیار سے زیادہ سخت ہے۔
انہی سے روایت ہے، فرماتے ہیں” عن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم قال هي مذعرة للشطان ”یعنی رسول الله صلى اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ شیطان کے دل میں خوف ڈالنے والا ۔ ہے۔ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں” ان النبي صلى الله تعالى عليه وسلم عقد في جلوس التشهد الخنصر والبنصر ثم حلق الوسطى بالابهام و اشار بالسبابة “ یعنی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے جلسہ تشہد میں چھوٹی انگلی اور اُس کی برابر والی کو بند کیا پھر بیچ کی انگلی کو انگوٹھے کے ساتھ حلقہ بنایا اور انگشت شہادت سے اشارہ فرمایا۔
مزید پڑھیں:مسجد کا محراب بالکل قبلہ رخ نہ ہو تو نماز کا حکم؟
اور اس باب میں احادیث و آثار بکثرت وارد، ہمارے محققین کا بھی یہی مذہب صحیح و معتمد علیہ ہے۔ اور اس مسئلہ میں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے روایتیں وارد جس نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اُس میں عدم روایت یا روایت عدم کا زعم کیا محض نا واقفی یا خطائے بشری پر منبی تھا امام محمد رحمہ اللہ تعالی کتاب المشخیۃ میں دربارہ اشارہ ایک حدیث رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کر کے فرماتے ہیں ”فنفعل ما فعل النبي صلى الله عليه وسلم ونصنع ما صنعه وهو قول ابي حنيفة وقولنا – ذكره العلامة الحلبي في الحلية عن البدانع ” یعنی پس ہم کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کیا اور عمل کرتے ہیں اس پر و حضور کا فعل تھا اور وہ مذہب ہے امام ابو حنیفہ کا اور ہمارا ۔
بالجملہ اشارہ مذکورہ کی خوبی میں کچھ شک نہیں ، احادیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اقوال ہمارے مجہتدین کرام کے اسی کو مفید ، بعد اس کے اگر کتب متاخرین مثل تنویر الابصار وو الوالجيه تجنیس خلاصه وبز از یه واقعات وعمدة المفتی ومنتیہ المفتی تبیین و کبری و مضمرات و ہند یہ وغیر ہا عامہ فتاوی میں عدم اشارہ کی ترجیح تصحیح منقول ہو تو قابل اعتماد نہیں ہوسکتی علماء نے ان اقوال پر التفات نہ فرمایا اور خلاف عقل و نقل ٹھہرایا۔
مزید پڑھیں:کیا کسی حدیث میں یہ آیا کہ عورت سینے پر ہاتھ باندھے؟
READ MORE  اولاد اور والدین ایک دوسرے کی زکوۃ ادا کر دیں تو اسکا کیا حکم ہے؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top