نا بالغ بچہ کسی کو ہبہ نہیں کر سکتا، تو ایصال ثواب کیسے؟
:سوال
ایصال ثواب ہبہ (تحفہ دینا) ہے اور نا بالغ بچہ کسی کو ہبہ وغیرہ نہیں کر سکتا، تو ایصال ثواب کیسے کر سکتا ہے؟
:جواب
عاقل بچہ ہر طرح کے تصرف سے محجور نہیں ، حجر ( تصرف سے روک دینے ) کا منشا ( مقصد ) یہی ضرر (نقصان) ہے اگر چہ فی الحال نقصان ہو جیسے قرض دینے میں یا اس کا احتمال ہو جیسےبیع میں ۔ جہاں کوئی ضرر نہیں وہاں حجر میں نظر اور بچہ کی رعایت نہیں بلکہ یہ خلاف نظر اور بعینہ ضرر رسانی ہے کہ گویا اسے جماد اور پتھر سے لاحق کر دینا ( ملا دینا) ہے۔
دیکھئے کہ بچہ بالا جماع اس کا اہل ہے کہ سلام میں پہل کرے بلکہ اس کے مربی ( پرورش کرنے والے) کو چاہئے کہ اگر خود اس کا عادی نہ ہو تو اسے سکھائے حالانکہ یہ بھی تبرع ہی کے باب سے ہے یہاں تک کہ حدیث میں اسے صدقہ کا نام دیا گیا ہے ۔ ابوداؤ د حضرت ابوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث میں راوی ہیں کہ حضور صلی اللہ تعا لی علیہ وسلم نے فرمایا (تسلیمہ علی من لقى صدقة)) جو ملے اس سے سلام کرنا صدقہ ہے۔
(سنن ابو داود، ج 2، ص 355، آفتاب علم پریس، لاہور )
اسی طرح اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے بات کرنا اور اظہار بشاشت کے ساتھ مسکرانا، کہ رسول اللہ صلی للہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا (تبسمك في وجه اخيك لك صدقة)) اپنے بھائی کے سامنے تیرا تبسم کرنا تیرے لیے صدقہ ہے۔
(جامع الترمدی، ج 17،2، امین کمپنی کتب خانہ رشید یہ دہلی )
اسی طرح راستہ بھول جانے والے کو راہ کے نشانات بتا کر راہنمائی کر دینا، رسول اللہ صل اللہ تعالیٰ علیہ سلم نے فرمایا ( دل الطريق صدقة)) راستہ بتانا صدقہ ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الجہاد، ج 1 ص 404، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
اسی طرح بہرے شخص کو بات سنوانا رسول اللہ صلی للہ تعالی علیہ سلم نے فرمایا (( اسماع الاصم صدقة)بہرے کو سنانا صدقہ ہے۔
(جامع للخطيب ج 3 ص 64، دار الفکر بیروت)
اسی طرح جس شخص نے جماعت نہ پائی اس کی اقتداء کرنا ، رسول اللہ صلی اللہ تعلی علیہ وسلم نے فرمایا ( الارجل يتصدق على هذا فيصلى معه) ارے کوئی ایسا شخص نہیں جو اس پر صدقہ کر دے کہ اس کے ساتھ نماز ادا کرے۔
(سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۸۵، آفتاب عالم پریس، لاہور )
اس طرح کی بہت سی اور کثیر نیکیاں ہیں اور ان کا دروازہ مسلمان بچوں پر بند نہیں جب تک کہ کوئی نقصان یا امریشہ نقصان نہ ہو۔ اس کی تفصیل سے واضح ہو گیا کہ بچہ اگر چہ محجور (ممنوع التصرف ) ہو مگر بے ضرر تبرع (اپنے طرف سے کسی پر احسان کرتے ہوئے ایسا کام کرنا جس میں خود اسے نقصان نہ ہو ) سے محجور نہیں ہے یہ کبری ہوا اب ہم صغرای بیان کرتے ہیں، بتوفیق الہی جب ہم فقہ وحدیث کی رہنمائی میں زیر بحث مسئلہ میں غور کرتے ہیں تو کسی مسلمان کو ثواب ہبہ و ہدیہ کرنے کو بحمدہ تعالی ہم نفع بے ضرر پاتے ہیں۔ یہ ہبہ مال کی طرح نہیں کہ مال جب کسی کو دیا تو اپنے پاس سے گیا، اور جب تک اپنے پاس ہے دوسرے کے پاس نہ پہنچے گا، جب دوسرے کے پاس پہنچ جائیگا تو اپنے پاس نہ رہے گا۔ یہاں وسعت فضل الہی اور کمال ربانی سے ہدیہ کرنے والے کا ثواب خود اس کے پاس بھی رہتا ہے، اور موہوب لہ کے پاس بھی پہنچتا ہے بلکہ اس عمل کی وجہ سے خود اس کا ثواب دس گنا ہو جاتا ہے تو یہ ایسا نفع ہے جس میں کوئی کمی نہیں، اور ایسی تجارت ہے جس میں ہرگز کوئی خسارہ نہیں۔
حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( من حجر عن ميت فللذي حج مثل اجره) جو کسی وفات یافتہ کی جانب سے حج کرے اس کے لیے بھی ثواب میت کے مثل ثواب ہو۔
(مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط ، ج 3 ص 282 ، دار الکتاب بیروت)
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا
( من مر على المقابر وقرأ قل هو الله احد احدى عشرة مرة ثم وهب اجرها للاموات اعطى من الاجر بعدد الاموات)
جو قبرستان سے گزرے اور سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو بخش دے اسے مردوں کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔
(کنز العمال ، ج 15، 655 ، مؤسسة الرسالة ، بیروت)
رد المحتار میں ہے
الافضل لمن يتصدق نفلا ان ينوى لجميع المومنين والمؤمنات لانها تصل اليهم ولا ينقص من أجره شيء اه قال وهو مذهب اهل السنة والجماعة “
جوکوئی نقل صدقہ کرے اس کے لیے افضل یہ ہے کہ تمام مومنین و مومنات کی نیت کر لے کہ وہ ان سب کو پہنچے اور اس کے اجر سے کچھ کم نہ ہوگا اور فرمایا کہ یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔
(ر والمحتار ج 1 ص 605، دار احیاء التراث العربی بیروت)
مختصر یہ کہ ثواب ہدیہ کرنا ایسا ہے جیسے چراغ سے چراغ جلانا کہ اس چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا اور دوسرے چراغ کو روشنی مل جاتی ہے، اور بلاشبہ بچہ اس طرح کے تبر ع سے ہرگز محجور نہیں ، بلکہ چراغ جلانا بھی اس کی نظیر نہیں ہوسکتی کہ وہاں اگر چراغ سے کچھ کم نہیں ہوتا تو کچھ زائد بھی نہیں ہوتا۔ اور یہاں ہبہ کر نیوالے کا ثواب ایک کا دس ہو جاتا ہے۔ اور اللہ جس کیلئے چاہے اور زیادہ کرتا ہے۔ اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
بطور مثل فرض کیجئے اگر عالم محسوس میں بھی کوئی ایسی صورت ہوتی کہ بچہ ایک درہم دے وہ درہم موہوب لہ کے پاس بھی پہنچے اور بچے کے ہاتھ میں بھی برقرار رہے اور ایک کا دس ہو جائے تو کیا یہ متصور تھا کہ شرع مطہر بچے کو ایسے تصرف سے روک دیتی، حاشا لله (ہرگز نہیں) احجر ( تصرف سے روکنا ) ضرر دور کرنے اور نظر ( بھلائی) کے لیے ہے، نفع دور کرنے اور حجر( پتھر) سے لاحق کرنے ( ملا دینے) کے لیے نہیں ہے۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 526

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top