مسجد کے صحن میں قبر پر فرش بنا کر نماز ادا کرنا کیسا؟
:سوال
مسجد کا عرض میں بہت کم ہے جو کہ جمعہ کو نمازیوں کے لئے کافی نہیں ہوتا لہذا اس کے فرش بڑھانے کی تدبیر در پیش ہے، فرش بڑھانے کی صورت میں ایک قبر پختہ بیچ فرش میں پڑگئی ، صاحب قبر کے انتقال کو قریب سو سال کے گزری ہوں گی لہذا علمائے دین کی خدمت میں التماس ہے کہ اس قبر کو کیا کیا جائے تا کہ نماز میں کچھ حرج نہ ہو؟ قبر کو برابر کردیا جائے تو کیا حکم ہے؟
:جواب
صورت مستنفرہ میں قبر مسلمان کو برابر کر دینا کہ لوگ اس پر چلیں پھریں، اٹھیں بیٹھیں نماز پڑھیں محض حرام ہے۔ پھر اس برابر کرنے سے نماز کا بھی کچھ آرام نہیں بلکہ نقصان ہے کہ قبر پر نماز پڑھنا حرام، اور قبر کی طرف بے حائل نماز پڑھنا بھی مسجد صغیر میں مطلقا حرام اور کبیر میں اتنے فاصلے تک حرام کہ جب نماز خاشعین کی پڑھی اور قیام میں موضع سجود پر نظر جمائے تو قبر تک نگاہ پہنچے، اور عام مساجد صغیر ہیں، مسجد کبیر ایسی ہے جیسے جامع خوارزم کہ سولہ ہزار ستون پر ہے، اور قبر اس جگہ کا نام ہے
مزید پڑھیں:مسجد میں تعلیم کی شرائط پر وثیقہ لکھوانا کیسا؟
جہاں میت دفن ہے، اوپر کا بلند نشان حقیقت قبر میں داخل نہیں تو اس کے برابر کر دینے سے قبر قبر ہی رہے گی غیر قبر نہ ہو جائے گی۔ بلکہ اس کا طریق یہ ہے کہ قبر کوفرش کے برابر کریں اور اگر فر اونچا ہوکر آئے گا تو قبر جس قدر نیچی ہورہنے دیں اور اس کے گردا گرد ایک ایک بالشت کے فاصلے سے ایک چار دیواری اٹھائیں کہ سطح قبر سے پاؤ گز یا زیادہ اونچی ہو ان دیواروں پر پتھر ڈال دیں یا ” لکڑیاں چن کر پاٹ دیں کہ چھت ہو جائے ، اب یہ ایک مکان ہو گیا جس کے اندر قبر ہے، اب اس کی چھت پر اور اسی کی دیوار کی طرف ہر طرح نماز جائز ہوگی کہ یہ نماز قبر پریا قبرکی طرف نہ رہی بلکہ ایک مکان کی چھت پر یا اس کی دیوار کی جانب ہوئی اور اس میں حرج نہیں۔ اور بہتر یہ ہے کہ ان مختصر دیواروں میں جنو با شمالا دیوار جانب قبلہ میں بھی بار یک جالیاں رکھیں، اس سے دو فائدے ہوں گے
اولا: میت کی قبر تک ہواؤں کا آنا جانا کہ بحکم حدیث موجب نزول رحمت ہے۔
دوم :جالیاں دیکھ کر ہر شخص سمجھ لے گا کہ یہ قبر نہیں اور اس پر یا اس کی طرف نماز پڑھنے میں اندیشہ نہ کرے گا ورنہ نا واقف اُسے بھی قبر جان کر احتراز کرے گا اور صحن مسجد کے اندر اتنی جگہ تین چار گرہ بلندی رہنے کو جاہل نادانوں کی طرح ناگوار نہ جانیں کہ اس میں میت واحیا و مسجد و قبر کی بھلائی ہے۔
مزید پڑھیں:مسجد کے باہر بنانے والے کے نام کا کتبہ لگانا کیسا؟
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 05, Fatwa 328

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top