کیا بارہ سال کم عمر کا بچہ بالغین کی امامت کر سکتا ہے؟

کیا بارہ سال کم عمر کا بچہ بالغین کی امامت کر سکتا ہے؟

:سوال
کیا بارہ سال کم عمر کا بچہ بالغین کی امامت کر سکتا ہے؟
:جواب
بارہ برس سے کم عمر کی تخصیص نہیں بلکہ صحیح و مختار یہ ہے کہ نابالغ کے پیچھے بالغوں کی کوئی نماز جائز نہیں اگر چہ ایک دن کم پندرہ برس کا ہو، امیت بالغین کے لیے بلوغ شرط ہے خواہ یہ ظہور آثارمثل احتلام وانزال خواه بتمامی پانزده سال
مزید پڑھیں:فرض یا تر اویح جماعت سے نہ پڑھے ہوں تو کیا وتروں کی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں؟
READ MORE  چاند کی رویت احناف کے نزدیک کن کن ذرائع سے ثابت ہو سکتی ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top