جنازہ کے ساتھ بلند آواز میں ذکر کرنے کے دلائل کا خلاصہ
:سوال
امام عارف باللہ علامہ عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ” حدیقہ ندیہ میں جنازہ کے ساتھ بلند آواز سے ذکر کرنے کے جو دلائل ذکر کئے ہیں ان کا خلاصہ کیا ہے؟
:جواب
( ان کا خلاصہ یہ ہے )
1
سلف صالح کی حالت جنازہ میں یہ ہوتی کہ نا واقف کو نہ معلوم ہوتا کہ ان میں اہل میت کون ہے اور باقی ہمراہ کون، سب ایک سے مغموم ومحزون نظر آتے اور اب حال یہ ہے کہ جنازے میں دنیوی باتوں میں مشغول ہوتے ہیں ، موت سے انھیں کوئی عبرت نہیں ہوتی ، ان کے دل اس سے غافل ہیں کہ میت پر کیا گزری ، فرماتے ہیں: بلکہ میں نے لوگوں کو ہنستے دیکھا، تو ایسی حالت میں ذکر جہر کرنا اور تعظیم خدا اور رسول جل جلالہ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے پڑھنا عین نصیحت ہے کہ ان کے دلوں کے زنگ چھوٹیں اور غفلت سے بیدار ہوں۔
2
نیز اس میں میت کو تلقین ذکر کا فائدہ ہے کہ وہ سن سن کر سوالات نکیرین کے جواب کے لئے تیار ہو۔
3
سیدی علی خواص رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے مسلمانوں کو ذکر خد اور سول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کا اذن عام ( عام اجازت ) ہے تو جب کسی خاص صورت کی ممانعت میں کوئی نص یا اجماع نہ ہوا انکار کیا مناسب؟
4
نیز انہی امام عارف نے فرمایا: الہی جو اس سے منع کرے اس کا دل کس قد رسخت اندھا ہے، جنازے کے ساتھ ذکر
خدا اور سول جل وعلا صلی اللہ علیہ سلم کے بند کرنے کی یہ کوشش اور بھنگ بکتی دیکھیں تو اسے اتنا نہ کہیں کہ یہ تجھ پر حرام ہے۔ فرماتے ہیں بلکہ میں نے انہی میں ایک کو دیکھا کہ اس سے تو منع کرتا اور خود اپنی پیش نمازی کی تنخواہ بھنگ فروش کے حرام مال سے لیتا۔
5
امام عارف باللہ سیدی شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں: اکابر کرام کے یہاں عہد ہے جو اچھی بات مسلمانوں نے نئی نکالی ہو اس سے منع نہ کریں گے خصوصاً جب وہ اللہ و رسول عز وجل وصلی اللہ علیہ سلم سے تعلق رکھتی ہو جیسے جنازے کے ساتھ قرآن مجید یا کلمہ شریف یا اور ذکر خدا اور رسول جل وعلا صلی اللہ علیہ وسلم۔
6
نیز امام ممدوح فرماتے ہیں: جو اسے نا جائز کہے اسے شریعت کی سمجھ نہیں۔
7
نیز فرماتے ہیں: ہر وہ بات کہ زمان برکت تو اماں حضور پرنورسید عالم صلی اللہ علیہ و سلم میں نہ تھی مذموم نہیں ہوتی ورنہ اس کا دروازہ کھلے تو ائمہ مجتہدین نے جتنی نیک باتیں نکالیں ان کے سب اقوال مردود ہو جائیں۔
8
فرماتے ہیں: بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے کہ (جو شخص دین اسلام میں نیک بات نکالے اسے اس کا اجر ملے اور قیامت تک جتنے لوگ اس نیک بات کو بجالائیں سب کا ثواب اس ایجاد کنندہ کے نامہ اعمال میں لکھا
جائے) علمائے امت کے لئے اس کا دروازہ کھول دیا ہے کہ نیک طریقے ایجاد کر کے جاری کریں اور انھیں شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملحق کریں، یعنی جب حضور انور صلی اللہ علیہ سلم نے یہ عام اجازت فرمائی ہے تو جو نیک بات نئی پیدا کی گئی وہ نئی نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اذن عام سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت ہے۔
9
فرماتے ہیں کہ شرع مطہر میں اس سے ممانعت نہ آنا ہی اس کے جواز کی دلیل ہے۔ اگر جنازے کے ساتھ ذکر الہی منع ہوتا تو کم از کم ایک حدیث اس کے ممانعت میں آتی ، جیسے رکوع میں قرآن مجید پڑھنا منع ہے، تو اس کی ممانعت کی حدیث موجود ہے، تو جس چیز سے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے سکوت فرمایا وہ کبھی ہمارے زمانے میں منع نہیں ہو سکتی ۔
10
نتیجہ یہ نکلا کہ اگر جنازے کے تمام ہمراہی بلند آواز سے کلمہ وغیرھا ذکر خدا اور سول عز وجل علا صلی اللہ علیہ سلم کرتے چلیں تو کچھ اعتراض نہیں بلکہ اس کا کرنا نہ کرنے سے افضل ہے۔
حدیقہ ندویہ شرح طریقه محمد یہ ج 2 ص 9-408 نوریہ رضویہ
READ MORE  کھانا اور جنازہ تیار ہو تو جنازہ ادا کریں گے یا کھانا؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top