فاسق یا قرات درست نہ ہونے والے کو امام بنانا
:سوال
ایک مسجد میں زید اور بکر دو اشخاص ہیں، زید کی قرآت ٹھیک نہیں کہ وہ شد مد وقف بلکہ حرف سے حرف تبدیل کرنے کا
عادی ہے اور بکر فاسق معلن ہے، ان میں سے کس کو امام بنایا جائے؟
:جواب
اس مسئلہ میں جواب سے پہلے چند مسائل کا معلوم کرنا ضرور:
(1)
وقف کی غلطی کہ وصل کی وقف، وقف کی جگہ وصل کرے، یہ اصلاً مفید نماز نہیں اگر چہ وقف لازم پر نہ ٹھہرے۔
(2)
جن حروف مدہ پر مد ہے جیسے جاء ، تنوء ، جائ ، یا یھا، قالوا انا، في ايام، دآبة، آمین وہاں مد نہ کرنا بھی اصلاً مفید نہیں۔
(3)
جن حروف مد یالین پر مد نہیں مثلاً قال يقول قیل یقول خیر ، ان پر مد کرنا بھی موجب فساد نہیں جبکہ حد سے زیادہ نہ ہوں ، ہاں حد سے متجاوز ہو جیسے گانے میں زمزمہ کھینچا جاتا ہے تو آپ ہی مطلقاً مفسد ہے اگر چہ مدہی کی جگہ ہو۔
(4)
کھڑے کو پڑا پڑھنا بھی مفسد نہیں ۔
ان چاروں باتوں سے اگر چہ فساد نماز نہیں مگر کراہت ضرور ہے کہ آخر قرآن عظیم کا غلط پڑھنا ہے یہاں تک کہ علمائےکرام نے فرمایا: مد کا ترک حرام ہے۔ تو کھڑے کو پڑا پڑھنا بدرجہ اولی حرام ہوگا اس میں تو جو ہر لفظ میں کمی ہو گئی بخلاف مد کہ امرزائد تھا۔
یوں ہی تصریح فرماتے ہیں کہ جو شخص وقف ووصل کی رعایت نہ رکھتا ہوا سے امام نہ ہونا چاہئے۔
(5)
پڑے کو کھڑا پڑھنے سے اگر معنی فاسد نہ ہوں ۔ ۔ تو نماز فاسد نہ ہوگی ۔
ورنہ (اگر معنی فاسد ہو گئے تو نماز ) فاسد ( ہو جائے گی )۔
(6)
یونہی مشد دکو مخفف مخفف کو مشدد پڑھنا فساد معنی میں فساد نماز ہے۔
(7)
س ص و غیر ہما حروف کی باہم تبدیل میں بھی فساد معنی ہی پر لحاظ ہے بحالت عدم فساد نماز فاسد نہیں۔
(8)
پچھلے تین مسائل میں کہ بحالت فساد معنی فساد نماز کا حکم مذکور ہمارے امام صاحب مذہب اور ان کے اتباع حکم مذکورہ ائمہ متقدمین رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب تھا اور وہی احوط و مختار ہے اجلہ محققین نے اُس کی تصریح فرمائی۔
اگر چہ علمائے متاخرین ان تین میں بھی کہیں بعض کہیں اکثر بغرض آسانی جانب جو از نماز گئے اور بکثرت فروع میں ان کے اقوال خود مختلف و مضطرب رہے۔
(9)
س، ص و غیر ہما حروف کی تبدیل جس میں آج کل اکثر عوام مبتلا ہیں جب بطور عجز ہو یعنی ص کہنا چاہیں تو س ہی ادا ہوص نہ نکال سکیں جیسا کہ یہاں عوام کا جنہوں نے قواعد ادا نہ سیکھے اور اس فرض عین کے تارک رہے یہی حال ہے تو اس صورت میں اگر چہ ان کی اپنی نماز ہو جانے پر فتوی ہے جبکہ سیکھنے پر کوشش کئے جائیں اور جو حرف نہیں نکال سکتے اس سے خالی کوئی سورت یا آیت پاتے ہوئے سوائے فاتحہ ایسا کلام جس میں وہ حروف آئے ہیں نہ پڑھیں اور صحیح خوان کی اقتدا ملتے ہوئے جد انماز ادانہ کریں مگر یہ حکم صرف اُن کی اپنی نماز ان شرطوں کے ساتھ جائز ہونے کے لئے ہے صحیح خواں کی امامت نہیں کر سکتے نہ اس کی نماز ان کے پیچھے ہو گی یہی مذہب صحیح ہے اور یہی قول جمہور ائمہ ہے جن میں متاخرین بھی شامل ہیں۔
(10)
فجر وظہر میں طوال مفصل ، عصر و عشاء میں اوساط کا پڑھنا اگر چہ سنت ہے ۔ ۔ مگر نہ ایسا ضروری کہ عذر سے بھی ترک نہ کیا جائے ۔صحیح حدیث سے ثابت کہ ایک بچہ جس کی ماں شریک جماعت تھیں اس کے رونے کی آواز سن کر حضور پر نور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فجر کی نماز صرف معوز تین سے پڑھائی ۔ علما ، یہاں منجملہ اعذار ملال قوم و بد آوازی امام تک شمار کرتے ہیں کہ کر یہہ الصوت ہو تو چھوٹی سورتوں پر قناعت کرے تا کہ مقتدیوں کو نا گوار نہ ہو۔ تو قرآن عظیم کو اپنے اغلاط اور اپنی مقتدیوں کی نماز کوفسا دسے محفوظ رکھنا تو عظم اعذار اور اہم کار ( کام ) ہے۔
(11)
فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے بحر الرائق و در مختار و معراج الدرایہ ومجتبی وغیر ہا میں اس کراہت کو تنزیہی اور غنیہ و فتاوی حجه و مراقی الفلاح و فتح الله المعین و غیر ہا میں تحریمی ٹھہرایا اور یہی کلام امام زیلعی کا مفاد ۔
(12)
جماعت اہم واجبات و اعظم شعائر اسلام سے ہے، تو فسق امام کے سبب ترک جماعت نہ چاہنے ادائے جماعت کے لئے اس کے پیچھے پڑھ لیں اور دفع کراہت کے لئے اعادہ کر لیں ۔ بلکہ جب اس کے سوانہ کوئی امامت کے قابل ہو نہ دوسری جگہ جماعت ملے تو اس کے پیچھے کراہت بھی نہ ر ہے گی۔ جب یہ مسائل معلوم ہو گئے تو حکم مسئلہ منکشف ہو گیا، زید و بکر دونوں کے پیچھے نماز کم سے کم مکروہ تو ضرور ہے، پس اگر کوئی تیسرا قابل امامت خالی از کراہت ملے تو اس کی اقتدا کریں۔ اور اگر کوئی نہ ہو تو اگر چھوٹی چھوٹی بعض سورتیں جو زید کو خوب صاف و صیح یاد ہوں ، انہی پر اکتفا کرنے میں زید سے وہ خرابیاں واقع نہ ہوتی ہوں ، سین وصاد و غیر ہما حروف بھی ٹھیک ادا کر لیتا ہو، تو واجب بلکہ لازم ہے کہ ہمیشہ انھیں سورتوں پر قناعت کرے ان کے سوا اور ہرگز ہرگز نہ پڑھے۔
جن میں کراہت در کنار نوبت تا بہ فساد پہنچے اور جب اس تدبیر سے وہ خرابیاں زائل ہوں تو اس تقدیر پر زید ہی کی امامت رکھیں کہ ہر نماز میں چھوٹی سورتوں پر اقتصار ترک سنت سہی مگر بعذ رقوی ہے، اور عذر دافع کراہت ( کراہت کو ختم کرنے والا ہے ) بخلاف بکر کہ اس کے پیچھے بسبب فسق کراہت بلکہ سخت کراہت ہے، تو زید ہی اولی با مامت ہے۔ ہے۔ اگر کوئی سورت زید کو صاف نہیں یاد، قصار ( چھوٹی سورتوں ) پر اقتصار میں بھی وہی خرابیاں پیش آتی ہیں اگر چہ کم ہوں تو اسے ہر گز امام نہ کیا جائے ، کہ جب پڑے پر کھڑا ،مخفف کو مشد د، مشدد کو مخفف ،س کو ص کو ص کو س پڑھنے کی عادت ہے تو یہ امور ایسی جگہ بھی ضرور واقع ہوں گے جن سے ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک نماز بالکل باطل ہو جائیگی ، اس کے کوئی معنی نہیں کہ اغلاط کا عادی و ہیں غلطی کرے جہاں معنی نہ بدلیں اور جہاں فساد معنی ہوتا وہاں نہ کرتا ہو غلطی اپنے قصد و اختیار کی نہیں جہاں چاہی کی جہاں چاہی نہ کی نہ بے علم آدمی یہ سمجھ سکتا ہے۔
کہ کہاں معنی بگڑیں گے کہاں نہیں ، خصوصاً جبکہ س وص کی تبدیلی بر بنائے عجز ہو کہ عاجزلاجرم کہیں ٹھیک نہ پڑھے گا، اس تقدیر پر اس کے پیچھے نماز اصل مذہب اور تصحیح ائمہ محققین پر فاسد و باطل ہے، اور بحالت عجز تو جمہور ائمہ کے نزدیک امامت صحیح خواں کی اس میں اصلاً لیاقت نہیں بلکہ فاسق ( جو کہ صحیح خواں ہے ) کے ہوتے ہوئے اس کی خود اپنی نماز نہ ہوگی کہ با و صنف قدرت اس نے اس کی اقتدا چھوڑ دی۔ بخلاف بکر کہ اگر چہ فاسق سہی مگر جبکہ صحیح خواں ہے تو اس کے پیچھے نماز با اتفاق اصحاب صحیح ہے، رہی کراہت اس کا علاج اعادہ سے ممکن بلکہ جب دوسرا کوئی قابل امامت نہیں تو کراہت بھی نہیں کہ عذر و ضرورت نافی کراہت ہیں۔
اور اسی سبب سے احسن واہم یہ کہ بکر اپنے رب جل وعلا سے ڈرے اپنے حال پر رحم کرے فسق و نافرمانی بادشاہ قہار سے تائب ہو کہ اس کے پیچھے نماز بر وقت محبوب و مناسب ہوا اگر روز قیامت کا اندیشہ نہیں تو اس مجلس اسلامی میں صدارت نہ ملنے کی غیرت چاہئیے ، آدمی اگر دنیا والوں کے کسی جلسہ میں جائے تو کوشش کرے گا کہ کوئی حرکت ایسی نہ ہو جو لوگ اچھی جگہ بٹھانے کے قابل نہ سمجھیں اور اگر کسی مجلس میں صدر کی جگہ سے ہاتھ پکڑ کر اٹھا دیا جائے کسی قدر غیرت آئے گی ندامت ہوگی تو یہ اللہ عز وجل کے دربار میں صدر مقام ہے، یہاں کیوں نہ غیرت کو کام میں لایئے کہ کارکنان بارگاہ سلطانی صدر جگہ سے ہاتھ پکڑ کر اٹھا نہ دیں، اللہ تعالی توفیق خیر عطا فرمائے ۔ آمین۔
READ MORE  بے ضرورت شرعی سوال کرنا اور ان کو دینا کیسا ہے؟

About The Author

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top