فلاں آبادی میں نہ رہنے کی قسم کھانا
:سوال
اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ فلاں آبادی میں نہ رہوں گا پھر اپنی خاص آبادی جس میں رہتا تھا چھوڑ کر گرد کی کسی آبادی میں سکونت اختیار کی تو آیا قسم سچی ہوئی یا نہیں؟
:جواب
جب ان آبادیوں کے خاص خاص نام جدا ہیں اور سب ملا کر ایک جدا نام سے تعبیر کی جاتی ہیں تو اگر اس نے وہ نام
لے کر قسم کھائی جو خاص اس کی آبادی کا تھا اور اسے چھوڑ کر دوسری آبادی میں جارہا جس پر وہ نام اطلاق نہیں کیا جاتا اور اس کا ساکن عرف میں اُس آبادی کا ساکن نہیں ٹھہرتا تو تم پوری ہوئی اور اگر وہ نام لیا تھا جس میں یہ سب داخل ہیں جس آبادی میں اب آیا وہ اسی پہلی آبادی کا حصہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے ساکن کو اُسی کا ساکن تصور کیا جاتا ہے تو قسم پوری نہ ہوئی کفارہ دے۔
READ MORE  Fatawa Rizvia jild 06, Fatwa 573

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top